’میں نے اس قتل سے جنت کمائی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک لڑکا خلیل احمد سے ملاقات کی غرض سے پولیس سٹیشن میں داخل ہوا اور فائرنگ کر کے خلیل کو ہلاک کردیا: سلیم الدین

تھانے میں داخل ہو کر ایک زیر حراست احمدی کب قتل کرنے والے ملزم نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے اور ج کہا ہے کہ اُس نے یہ قتل کر کے جنت کمائی ہے۔

لاہور کے نواحی علاقے شرق پور شیخو پورہ کی پولیس نے حملہ آور ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور مقتول خلیل احمد کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی ہے۔

جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان کے مطابق مقتول خلیل احمد شرق پور کے گاؤں گھوئی وال کے رہائشی تھے جہاں ان کے علاوہ دیگر 15 سے 20 گھرانے بھی رہتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق گذشتہ ہفتے احمدیوں کے خلاف سٹیکر لگائے جانے پر مقتول کا ایک دکاندار سے جھگڑا ہوا جو بڑھ گیا پولیس نے مقتول خلیل احمد سمیت چار احمدیوں کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کر لیا تھا۔ سلیم الدین نے کہا خلیل احمد اُس وقت حوالات میں تھے جب انھیں قتل کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے ’کیس میں 295 اور توہینِ مذہب کے دفعات لگائی گئیں چار لوگ نامزد کیے گئے ان میں سے ایک خلیل احمد کو حراست میں لیا گیا اور وہ حوالات میں تھے۔ باقی لوگ گرفتار نہیں ہوئے اور ان کے متبادل لوگ انھوں نے پکڑے اور وہ بھی حوالات میں ڈالے گئے۔

پولیس بتاتی ہے ’ایک لڑکا ان سے ملنے کے بہانے وہاں داخل ہوا اور انھیں گولیوں کا نشانہ بنا دیا‘۔

ملزم نے خود پولیس کو گرفتاری دی اور کہا کہ اُس نے یہ قتل کر کے جنت کمائی ہے۔

چار بچوں کے والد خلیل احمد کو ربوہ کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔

قبل ازیں فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق احمدی برادری کے ترجمان سلیم الدین کا کہنا ہے شرق پور گاؤں میں ایک دکاندار نے 12 مئی کو خلیل احمد اور دیگر تین افراد کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کرایا تھا۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پارلیمان نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا اور احمدیوں کا کہنا ہے کہ اس کے بعد انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل صوبہ پنجاب کے علاقے جھنگ میں 68 وکلا کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مدعی ارشد محمود نامی مقامی شخص کا الزام ہے کہ احتجاج میں مصروف وکلا نے عمر نام لے کر گالیاں دیں جو توہین مذہب ہے۔ وکلا کی جانب سے یہ احتجاج اپنے ایک ساتھی وکیل کی حراست کے خلاف کیا جا رہا تھا، جس کے دوران انھوں نے تھانے کے ایس ایچ او عمر دراز کے خلاف نعرے لگائے۔

اس پر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ درجنوں وکلا کے خلاف توہینِ مذہب کی ایف آئی آر درج ہونا اتنی بڑی بات نہیں ہے اور پولیس کے مطابق یہ مقدمہ فرقہ وارانہ کشیدگی سے بچنے کے لیے مجبوراً درج کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں