کون مودی، کیسا الیکشن ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لوگ 12 ہزار کلومیٹر پرے امریکی انتخابات میں دلچسی لیتے ہیں لیکن بھارتی انتخابات میں نہیں

ایک عام پاکستانی کو بھارتی الیکشن اور اس کے نتائج سے کس قدر دلچسپی ہے اس کا ہلکا سا اندازہ پچھلے ہفتے ہی ہوگیا تھا جب کراچی یونیورسٹی میں ایم اے ماس کمیونیکیشن کے طلبہ و طالبات سے بات کرتے کرتے میں نے پوچھ لیا کہ کون کون بھارتی الیکشن میں دلچسپی لے رہا ہے۔

19 میں سے صرف ایک نے ہاتھ اٹھایا: ’سر بس اتنا پتہ ہے کہ وہاں الیکشن ہو رہے ہیں۔‘ کیا آپ میں سے کسی کو افغانستان کے صدارتی انتخابات سے دلچسپی ہے؟ صرف دو نے ہاتھ اٹھایا کہ ’ان انتخابات میں شاید حامد کرزئی بھی امیدوار ہیں۔‘

میں نے اپنے محلے میں ہی روزانہ اردو اخبار خریدنے والے ایک دوکان دار سے جاننا چاہا کہ مودی کے بارے میں بھی کچھ جانتے ہیں۔ کہنے لگا: ’کیسے پتہ چلے۔ اخبار میں تو سوائے میڈیا کی آپس کی لڑائی، فوج اور سویلین حکومت کے تعلقات اور کرائم کی خبروں کے کچھ ہے ہی نہیں۔‘

کراچی پریس کلب میں ایستادہ ایک دگج صحافی سے پوچھا کہ لوگ 12 ہزار کلومیٹر پرے کے امریکی انتخابات میں اتنی دلچسپی کیوں ظاہر کرتے ہیں جبکہ دنیا کا سب سے بڑا الیکشن ایک ہاتھ کے فاصلے پر ہے۔

بالی وڈ دن رات ان کے گھروں میں رہتا ہے۔ اکثر کو بھارتی کرکٹروں کے نام ازبر ہیں۔ پھر بھی انھیں بھارتی انتخابات اور ان کے نتائج کے ممکنہ اثرات سے اتنی دلچسپی بھی کیوں نہیں جتنی اپنے رہائشی کمپلیکس کی مینیجمنٹ کمیٹی کے الیکشن سے ہوتی ہے۔

فرمایا کہ ’چونکہ پاکستان اور پاکستانیوں کا امریکہ کے ساتھ ایک نفرتی محبت والا معاملہ ہے، اس لیے اکثر پاکستانیوں کو اوباما چھوڑ امریکہ کے پچھلے اور موجودہ وزرائے خارجہ تک کا نام بھی یاد ہوگا۔ لگ بھگ ہر پاکستانی غلط یا صحیح یہ بھی سمجھتا ہے کہ رپبلکن انتظامیہ پاکستان کی دوست اور ڈیموکریٹ دشمن ہوتی ہے۔

اس کے برعکس انڈیا اگرچہ عام پاکستانیوں کی نظر میں سب سے بڑا نظریاتی، جغرافیائی، سیاسی، اقتصادی و سفارتی حریف ہے پھر بھی وہ بھارت کے بارے میں بہت زیادہ جاننا نہیں چاہتے۔ جب یہ طے ہے کہ بھارت بذاتِ خود ہی منفی سوچ رکھنے والا ملک ہے تو پھر مودی آئے کہ راہل جائے کیا فرق پڑتا ہے۔ ہم تو خود ہی نریندر مودیوں میں خود کفیل ہیں۔ پہلے درجن بھر تھے اب تو سینکڑوں میں ہیں۔

اور جہاں تک افغانستان کا معاملہ ہے تو ظاہر شاہ سے حامد کرزئی تک سب افغان حکومتوں کا پاکستان کو خوا مخواہ برا بھلا کہنے کے یک نکاتی ایجنڈے پر مستقل اتفاق رہا ہے اور عبداللہ عبداللہ بھی کوئی مختلف صدر نہیں ہوگا۔ لہٰذا ہمیں کیا کہ وہاں کون آیا اور گیا۔

اگر آپ اس گمان میں ہیں کہ لوکل میڈیا اس بارے میں کوئی مدد کرسکتا ہے تو پھر خود ہی کوئی بھی اردو اخبار پڑھ لیں یا چینل مسلسل دو دن دیکھ لیں۔ آپ یقین کرنے لگیں گے کہ دراصل انڈیا وہ جگہ ہے جہاں من موہن سنگھ وغیرہ بھی رہ رہے ہوں گے مگر راج تو کترینہ کیف، شاہ رخ خان، سنی لیونی وغیرہ کا ہی ہے۔ انڈیا وہ ملک ہے جہاں سے قلت کے زمانے میں آلو، پیاز اور چینی آتی ہے کیونکہ واہگہ بارڈر کی مجبوری ہے۔

اور پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کا بیرومیٹر دراصل وہ ماہی گیر ہیں جو ہر دوسرے تیسرے ہفتے ایک دوسرے کے سمندر میں پکڑے جاتے ہیں اور ہر دوسرے تیسرے سال آزاد کیے جاتے ہیں تاکہ ان کی جگہ نئے ماہی گیر پکڑے جا سکیں۔ اور یہ کہ چین تو بلوچستان کو ترقی دے رہا ہے جبکہ انڈیا وہاں مسلسل مداخلت کر رہا ہے۔ اور ہاں یاد رکھیے گا کہ 19 اپریل سے جیو بھی انڈین ایجنٹ ہے۔

کیا یہ فرض کیا جاسکتا ہے کہ اگر حامد میر پر حملے کے بعد پاکستانی میڈیا میں جہادی و نیم جہادی قوتوں، جزوقتی علما، کیبل آپریٹرز، کالم نگاروں اور ٹاک شو بازوں کی کمک کے ساتھ بھرپور خانہ جنگی نہ چھڑی ہوئی ہوتی۔ پاکستان کے اروند کیجریوال (عمران خان) کا دھاندلی شکن شو (پارٹ ٹو) نہ چل رہا ہوتا، علامہ طاہر القادری سالانہ ڈگڈگی نہ بجا رہے ہوتے، الطاف حسین کے شناختی کارڈ کا تنازع نہ کھڑا ہوتا، ایک ٹی وی مارننگ شو میں مقدس ہستیوں کی توہین کا قضیہ نہ چھڑ جاتا اور جگہ جگہ پاک فوج کو سلام نامی سیریز کے جلسے نہ ہو رہے ہوتے، تو ممکن ہے کہ پاکستانی میڈیا افغانستان اور بھارت کے انتخابات اور پاکستان پر ان کے ممکنہ اثرات کے موضوع پر اسی طرح توجہ دیتا جس طرح اسلام آباد کو پانچ گھنٹے تک یرغمال بنانے والے ملک سکندر حیات پر توجہ دی گئی تھی۔ شاید نہیں۔

کسی بھی معروف مقامی میڈیا ادارے نے کابل میں کوئی ٹیم انتخابی کوریج کے لیے نہیں بھیجی۔ جبکہ دنیا کے سب سے بڑے الیکشن کی کوریج کے لیے بمشکل ایک میڈیا ہاؤس نے اپنے دو نامہ نگار بھارت بھیجے۔

ایک حیدرآبادی محاورہ ہے:

مینڈک کے لیے تو کنواں ہی بھلا۔۔۔

اسی بارے میں