مہمند، باجوڑ میں دھماکے، ایک اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اطلاعات کے مطابق اتوار کو یہ دھماکے باجوڑ سرحد سے متصل تحصیل صافی میں ہوئے

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں حکام کے مطابق دو دھماکے ہوئے ہیں جن میں مقامی پولیس خاصہ دار فورس کے ایک اہلکار ہلاک اور ایک خاتون سمیت متعدد اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے علاقے بونیر میں آج چار روز بعد کرفیو میں چار گھنٹے کے لیے نرمی کی گئی ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق مہمند ایجنسی کی تحصیل صافی میں چمر کنڈ کے مقام پر سڑک کے کنارے اس وقت دھماکہ ہوا جب خاصہ دار فورس اور ایف سی کے اہلکار گاڑی میں وہاں گشت کر رہے تھے۔

حکام نے بتایا کہ پہلے دھماکے کے بعد اہلکار اور دیگر شہری وہاں موجود تھے کہ اس دوران دوسرا دھماکہ ہوا جس میں ایک خاصہ دار ہلاک ہو گیا ہے۔ ان دھماکوں میں تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنھیں مقامی ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے ۔ یہ علاقہ باجوڑ ایجنسی کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

دوسری جانب اتوار کی صبح باجوڑ ایجنسی کے علاقے رشکئی میں بھی ریموٹ کنٹرول کے ساتھ دھماکہ کیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد سڑک کے کنارے نصب کیا گیا تھا۔

مقامی لولیس لیویز کے اہلکاروں کی گاڑی جب اس مقام پر پہنچی تو دھماکہ ہوا جس میں چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ انتظامیہ کے اہلکاروں نے بتایا کہ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہیں۔

ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں آج کرفیوں میں دو گھنٹے کا وقفہ دیا گیا ہے۔ ملا کنڈ ڈویژن کے شہر بونیر میں پیر بابا کے علاقےگزشتہ ہفتے کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا جہاں سے مقامی لوگوں نے بتایا کہ بعض مقامات پر سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔

سرچ آپریشن کے دوران فضا میں ہیلی کاپٹر گشت کرتے رہے جبکہ زمین پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کے لیے فورسز نے پیش رفت کی ہے۔ سرکاری سطح پر اس سرچ آپریشن کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں جا رہیں۔

جماعت اسلامی کے سربراہ اور خیبر پختونخوا کے سینیئر وزیر سراج الحق نے گزشتہ روز ایک اخباری کانفرنس میں بونیر سے کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔

آج پولیس کے مطابق ملک پور ، ڈکڑہ اور پیر بابا بازار میں دس بجے سے دوپہر دو بجے تک کرفیو میں نرمی کی گئی تھی جبکہ بونیر جانے والے کچھ راستے بھی بند ہیں اس لیے ان کے لیے متابدل راستو پر ٹریفک منتقل کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں