’الفانسو‘ پر پابندی، پاکستانی آم کے لیے نادر موقع؟

پاکستانی برآمدکنندگان یورپ کے علاوہ امریکہ اور کینیڈا کی مارکیٹ میں بھی اپنا حصہ بڑھانے کے لیے پرامید ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

پاکستانی برآمدکنندگان یورپ کے علاوہ امریکہ اور کینیڈا کی مارکیٹ میں بھی اپنا حصہ بڑھانے کے لیے پرامید ہیں

یورپی یونین کی جانب سے بھارت سے آم کی برآمد پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد پاکستان میں اس پھل کے برآمد کنندگان رواں موسمِ گرما میں یورپ میں آم کی مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھانے کے لیے پرامید ہیں۔

آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اور پاکستان اور بھارت دونوں ممالک سے سالانہ نو کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کے آم برآمد کیے جاتے رہے ہیں۔

آم کی اس برآمدی مارکیٹ میں پاکستان کو پہلے ہی بھارت پر سبقت حاصل ہے اور سنہ 2013 میں پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ آم برآمد کیے تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے کہا ہے کہ گذشتہ برس پاکستان سے ایک لاکھ ٹن آم برآمد ہوئے جس سے ملک کو چار کروڑ 86 لاکھ ڈالر زرِمبادلہ حاصل ہوا جب کہ بھارت نے اس عرصے میں 56 ہزار ٹن آم باہر بھجوا کر چار کروڑ 46 لاکھ ڈالر کمائے۔

تاہم اب یورپی یونین نے یکم مئی سے انڈیا کے مشہور الفانسو آم کی یورپ درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے اور یوں پاکستان کو اس شعبے میں اپنی برآمدات میں اضافے کا موقع ملا ہے۔

بھارتی آم پر پابندی کی وجہ یورپ پہنچنے والے بھارتی آموں کی پہلی کھیپ میں فروٹ فلائی یا پھل مکھی کی موجودگی کا انکشاف تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

پابندی کی وجہ یورپ پہنچنے والے بھارتی آموں کی پہلی کھیپ میں فروٹ فلائی کی موجودگی کا انکشاف تھا

پھل مکھی پاکستان میں بھی آم کے کاشتکاروں کا مسئلہ ہے۔ پھلوں کو کیڑے مکوڑوں سے بچانے کے پاکستانی ماہر سید عصمت حسین کا کہنا ہے کہ ’پھل مکھی نے بھارت کے علاوہ پاکستانی آم کو بھی متاثر کیا ہے لیکن ہم نے سادہ اور سائنسی طریقوں سے اسے کنٹرول کیا ہے۔‘

اس سلسلے میں صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے پارلیمانی سکریٹری راجہ اعجاز احمد نون کا کہنا ہے کہ بھارتی غلطیوں سے کاشت کاری کے معیار میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔

ملتان میں اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم اسے مثبت انداز میں لے رہے ہیں اور انڈیا کی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

راجہ اعجاز کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں ملکی پیداوار کا 40 فیصد آم برآمد کرنے کی استطاعت ہے‘ اور اس سال کوشش کی جائے گی کہ ’ہم آم کی برآمد کو 16 فیصد تک لا سکیں۔‘

پاکستان میں آم کے کاشتکاروں کی ایسوسی ایشن کے صدر سید زاہد گردیزی بھی پرامید ہیں کہ پاکستانی آم یورپ کے علاوہ امریکہ اور کینیڈا کی مارکیٹ میں بھی اپنا حصہ بڑھانے میں کامیاب رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ان بازاروں کو قابو کرنے کے لیے سائنسی طریقے سے کام کرتے ہوئے بہت نفاست اور عمدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔‘