بگرام جیل کے پاکستانی قیدی

Image caption بگرام جیل کے بڑے حصے کا کنٹرول افغان حکام کے حوالے کیا جا چکا ہے

پاکپتن کے ایک گاؤں میں فاطمہ گذشتہ ساڑھے تین برس سے اپنے بھائی کے گھر رہ رہی ہیں۔ ان کے میاں ایک کمپنی کے ساتھ مختلف شہروں بورنگ کا کام کرتے تھے۔ ایک دن وہ کام کے سلسلے میں چمن گئے اور پھر واپس نہیں آئے۔

کئی ماہ فاطمہ اپنے میاں کی تلاش میں دربدر ہوتی رہیں اور پھر چھ ماہ بعد انھیں انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈکراس کی جانب سے ایک خط موصول ہوا جس میں انھیں بتایا گیا کہ ان کے میاں افتخار اس وقت بگرام جیل میں قید ہیں۔

بگرام جیل کے بڑے حصے کا کنٹرول افغان حکام کے حوالے کیا جا چکا ہے جس کے بعد بہت سے مقامی قیدیوں کو رہائی ملی ہے، تاہم وہ حصہ جہاں پاکستانیوں سمیت غیرملکی قید ہیں اب بھی امریکیوں کے زیرِانتظام ہے۔

فاطمہ کے شوہر پر الزام کیا ہیں، یہ تو انھیں معلوم نہیں، تاہم ان کے شوہر کی قید نے انھیں دو وقت کی روٹی کے لیے بھی رشتے داروں کا محتاج بنا دیا ہے۔

’میرے میاں کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں، ان کی باتیں بے ربط ہوتی ہیں۔ انھیں کچھ معلوم نہیں کہ گھر میں کیا ہو رہا ہے۔ وہ بہت سے رشتے داروں کو بھی نہیں پہچانتے۔‘ فاطمہ کہتی ہیں کہ ان کے لیے تو ایسی زندگی سے موت ہی اچھی ہے۔

یہ کہانی صرف فاطمہ کی نہیں۔ بگرام کی جیل میں اب بھی 24 پاکستانی قید ہیں۔ خطے میں 12 برس تک دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے بعد جوں جوں افغانستان سے امریکہ کے انخلا کا وقت قریب آ رہا ہے، قیدیوں کے رشتے دارں کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

بگرام میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کوشش کرنے والے ادارے جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی ڈائریکٹر بیرسٹر سارہ بلال کہتی ہیں:

’ہمیں زیادہ امید نہیں ہے کہ سب پاکستانی قیدی امریکہ کے افغانستان سے انخلا سے پہلے رہا ہو سکیں اور اگر وہ رہا نہ ہو سکے تو انھیں افغان حکام کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستانی حکمرانوں کے لیے انتہائی شرمناک ہوگا کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کی حفاظت نہیں کر سکے۔ اگر پاکستانی قیدیوں پر تشدد ہوا تو انخلا کے باوجود امریکہ ذمےدار ہوگا اور وہ اپنی اخلاقی ذمےداری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا۔‘

نومبر میں جن چھ پاکستانیوں کو بگرام سے رہائی ملنے کے بعد دو ماہ تک پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں رکھا گیا، ان میں سے اکثر لوگ ابھی بھی جیل میں خود سے روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں بات کرتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ انھیں ڈر ہے کہ کہیں انھیں دوبارہ اپنی آزادی سے ہاتھ نہ دھونا پڑیں۔

لیکن قیدی نمبر 2422 عمران خان کو اس کی پروا نہیں۔ وہ بگرام کی آپ بیتی کچھ یوں سناتے ہیں:

’امریکیوں کا سلوک یہ تھا کہ ہم ہر وقت پنجروں کے اندر رہتے تھے۔ یہ آٹھ نو سال اسی طرح گزر گئے۔ ہمارے کئی پاکستانی بے گناہ ہیں اور ان کی بے گناہی ثابت بھی ہوئی تاہم امریکیوں نے انھیں صاف بتا دیا کہ وہ ان کی بے گناہی جانتے بھی ہیں تاہم وہ یہ بات اپنے افسروں کو نہیں سمجھا سکتے اور وہ صرف اس لیے اب تک قید ہیں کیونکہ وہ پاکستانی ہیں۔‘

عمران کو سلالہ چیک پوسٹ پر بمباری اور اس کے بعد پاکستان کی جانب سے نیٹو سپلائی روکے جانے کے دن بھی یاد ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ہم تو جیل میں ان سب باتوں سے بے خبر تھے لیکن ایک دن ایسا آیا کہ انھیں پلیٹ میں لوبیے کے صرف تین دانے کھانے کے لیے دیے گئے۔‘

Image caption فاطمہ کو اطلاع ملی ہے کہ بگرام سے ان کے میاں اور نو دوسرے قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے لیکن وہ ہیں کہاں انھیں کچھ معلوم نہیں

’پہلے ہی کھانے کو کم ملتا تھا۔ یہ دیکھ کر میں پریشان ہوگیا اور میں نے جیل اہل کار سے وجہ پوچھی تو جواب ملا کہ پاکستان نے نیٹو سپلائی بند کر دی ہے۔ ہمارے پاس تمھیں کھانے کو دینے کے لیے صرف یہی ہے۔‘

عمران کہتے ہیں کہ تقریباً نو سال انھوں نے اذیت میں گزارے، نہ پیٹ بھر کھانا نصیب ہوا نہ چین کی نیند۔ سونے کے وقت جیل اہل کار جان بوجھ کر مختلف طریقوں سے شور پیدا کرتے تھے۔ بہت سے پاکستانی تو ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ رہائی کے وقت ایک امریکی فوجی اہل کار نے ان سے معافی بھی مانگی لیکن اس سے ان سے ہونے والی ناانصافی کا ازالہ تو نہیں ہو سکتا۔

’امریکی فوجی نے کہا: ’وی آر ویری ویری سوری۔ آپ بے گناہ نکلے ہم آپ سے معافی چاہتے ہیں۔‘

میں نے کہا کہ ’آپ آٹھ نو سال بعد ہم سے معافی چاہتے ہیں تو امریکی کرنل نے کہا اب کیا کریں، ہم سے غلطی ہو چکی ہے۔‘

کابل میں امریکی سفارتخانے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی قیدیوں کی واپسی کے لیے امریکی محکمۂ خارجہ اور محکمۂ دفاع سمیت دوسرے متعلقہ اداروں کی مدد سے مناسب راستہ تلاش کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور جب تک ان قیدیوں کے مقدمات پر نظر ثانی کا سلسلہ جاری ہے، انسانی پہلو سے ان کی دیکھ بھال اور حفاظت جاری ہے گی۔

فاطمہ کو اطلاع ملی ہے کہ بگرام سے ان کے میاں اور نو دوسرے قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے لیکن وہ ہیں کہاں، کیا وہ پاکستان میں ہیں، اور اگر پاکستان میں ہیں تو کہاں ہیں، فاطمہ کو کچھ معلوم نہیں۔

اسی بارے میں