’بلوچستان میں بھارتی، افغان مداخلت کا الزام‘

Image caption اسلحے کی سمگلنگ کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا: صوبائی وزیرِ داخلہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے ایک مرتبہ پھر الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی اور افغان انٹیلیجینس ادارے صوبے میں مداخلت کر کے بے چینی پیدا کر رہے ہیں۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ نے یہ الزام ایک ایسے موقعے پر عائد کیا جب افغانستان میں پاکستان اور افغانستان کے فوجی سربراہان کے علاوہ افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے سربراہ کے درمیان پیر کو مذاکرات ہو رہے ہیں۔

بلوچستان میں حکام نے پیر کے روز کوئٹہ میں اسلحے اور گولہ بارود کی ایک بڑی مقدار میڈیا کے سامنے پیش کی جو ان کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کے لیے سمگل کی جا رہی تھی۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے ایک پریس کانفرنس میں ایف سی بلوچستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اسلحہ ایک ٹرک میں سمگل کیا جا رہا تھا لیکن کوئٹہ میں داخل ہونے سے پہلے اسے پکڑا گیا۔

یہ اسلحہ فرنٹیئر کور بلوچستان کے مددگار سینٹر میں میڈیا کے نمائندوں کو دکھایا گیا جہاں فرنٹیئر کور بلوچستان کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں مرکزی اور صوبائی انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کے باہمی تعاون سے حال ہی میں قائم شدہ انٹیلی جنس فیوژن سیل میں ایک عرصے سے اطلاعات موصول ہورہی تھیں کہ مخصوص گروہ کے ذریعے خیبر پختونخواسے کافی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بلوچستان لایا جارہا ہے۔

برآمد کیے جانے والے اسلحے میں ایک سو کلاشنکوف، تین جی تھری رائفلیں، 70 بوری دھماکہ خیز مواد، 50 آئی ای ڈی سوئچز، 200 ڈیٹونیٹر اور145 پستولوں کے علاوہ دیگر اسلحہ شامل ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ ’یہ اسلحہ بلوچستان میں بلوچ قوم پرست اور نیم قوم پرست دہشت گرد گروہوں کو پہنچایا جانا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ہندوستانی ایجنسی را اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی بلوچستان میں بے چینی پیدا کرنے کے علاوہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اسلحے کی سمگلنگ کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کو عدالت میں پیش کرنے کا عمل جاری ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ سپین بولدک سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں میں 34 کیمپ ہیں جن میں بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو پالنے کے علاوہ ان کو تربیت دی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں