33 دن میں پاکستانی فٹ بال ورلڈ کپ میں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جدید فٹ بال سازی انتہائی پیچیدہ کام ہے جس کے لیے جدید مشینری کے علاوہ مہارت بھی درکار ہوتی ہے

جرمنی میں سنہ 2006 میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کے شور میں پاکستانی صنعت کار خواجہ اختر نے ایک گول کرنے کا خواب دیکھا تھا اور یہ تھا دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال مقابلوں کے لیے فٹ بال بنانے کا خواب۔

سیالکوٹ میں فٹ بال کی صنعت: تصاویر

خواجہ اختر نے برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ لوگ ان کے اردگر نعرے بلند کر رہے تھے جب انھیں یہ خیال آیا کہ ’یہ ہے اصل چیز۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ اس وقت فٹ بال شائقین کا حصہ تھے اور انھیں اس سے قبل اس طرح کا احساس نہیں ہوا تھا۔

پاکستان کی مشرقی سرحد کے قریب واقع شہر سیالکوٹ میں قائم ان کی فیکٹری نے جرمنی کی فٹ بال لیگ بنڈس لیگا، فرانسیسی لیگ اور چیمپیئن لیگ کے لیے فٹ بال بنائے ہیں لیکن انھیں کبھی عالمی کپ میں فٹ بال فراہم کرنے کا ٹھیکہ نہیں ملا تھا۔

گذشتہ سال انھیں یہ موقع مل گیا لیکن اس کو عملی شکل دینے کے لیے صرف 33 دن ملے۔

جب اختر نے گذشتہ سال خزاں کے موسم میں سنا کہ کھیلوں کا سامان بنانے والی عالمی کمپنی ایڈیڈس کو فٹ بال فراہم کرنے والی چینی کمپنی عالمی کپ کے لیے وقت پر آرڈر پورا نہیں کر سکتی تو انھوں نے فوری طور پر ایڈیڈس کے ایگزیکٹیوز کو سیالکوٹ آنے کی دعوت دی۔ سیالکوٹ کھیلوں کا ساز و سامان بنانے میں عالمی شہرت کا حامل ہے اور یہاں چمڑے کی بھی صنعت بڑی مضبوط ہے۔

ایڈیڈس کے افسران کا پہلا دورہ اختر کے لیے کامیاب ثابت نہ ہوا۔ اختر خواجہ کے بڑے لڑکے حسن مسعود خواجہ نے ہنستے ہوئے بتایا کہ ’انھوں نے کہا کہ تمارے پاس پتھر کے زمانے کی مشینیں ہیں۔‘

’ایڈیڈس کے افسران کے چلے جانے کے بعد میرے والد نے ایک اجلاس بلایا اور کہا کہ ہمارے پاس یہ آخری موقع اور ہے اگر ہم انھیں یہ دکھا دیں کہ ہم یہ کر سکتے ہیں، اس کے بعد ہمیں دوسرا موقع نہیں ملے گا۔‘

کسی بھی فیکٹری میں عام طور پر پروڈکشن لائن بنانے میں چھ ماہ کا وقت لگتا ہے اور ان کے پاس صرف ایک مہینے کا وقت تھا۔ کھیلوں کا سامان بنانے والی جرمن کمپنی ایڈیڈس بہت جلدی میں تھی۔ خواجہ نے ڈیزائن تیار کیا اور تمام آلات 33 دن میں نصب کروا لیے۔ ہر چیز کو نئے سرے سے کرنا تھا۔

اپنی فیکٹری میں مشینوں کے شور کے درمیان انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت مشکل کام تھا، شاید سب سے مشکل کام جو میں نے اب تک کیا ہے۔‘

بالآخر وہ کامیاب ہوئے اور تھرمل بانڈنگ ٹیکنالوجی میں ماضی میں کی گئی سرمایہ کاری رنگ لائی۔ صرف تھرمل بانڈڈ بال جو اس گوند سے جوڑی جاتی ہے جو حدت سے چپکتی ہے، وہی اتنی گول ہوتی ہے جو عالمی کپ کے اعلیٰ ترین معیار پر پورا اترتی ہے۔

کرکٹ کی دنیا میں مقام رکھنے والا ملک پاکستان فٹ بال میں طفل مکتب کے مصداق ہے اور فٹ بال کی عالمی رینکنگ میں 159ویں نمبر پر ہے۔

لیکن اختر خواجہ کی فیکٹری میں جہاں عورتیں اور مرد شانہ بشانہ کام کرتے ہیں، سیالکوٹ کی روایتی صنعت کا اہم حصہ ہے۔

سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی روایات کے مطابق سیالکوٹ میں ایک غریب موچی برطانوی فوجی کے پھٹے ہوئے فٹ بالوں کی مرمت کرتا تھا اور پھر اس نے فٹ بال بنانے کا فن سیکھ لیا۔ اس کا کاروبار اتنا کامیاب ہوا کہ پورے ہندوستان سے برطانوی فوجیوں نے اس سے فب بال خریدنا شروع کر دیے اور یوں اس کا کاروبار چمکنے لگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس مرتبہ عالمی کپ فٹ بال کی جو گیند استعمال کی جائے گی اس کی سطح کھردری ہے۔

لیکن پھر بچوں سے مشقت لینے کا معاملہ اٹھ کھڑا ہوا۔ سکینڈلوں کے طویل سلسلے اور تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے بہت سے صنعتی یونٹ بند ہو گئے، اور جو باقی بھی رہیں، انھیں اپنے طور طریقے بدلنے پڑے۔

آج کل عالمی برینڈ کی کمپنیاں اکثر سیالکوٹ میں فیکٹریوں کے معائنے کے لیے آتی ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہاں فٹ بال کیسے بنائے جا رہے ہیں۔ اختر خواجہ کی فیکٹری کی دیواروں پر کئی جگہوں یہ لکھ کر لگایا گیا ہے کہ بچوں سے مشقت لینا منع ہے اور فیکٹری میں مزدوروں کو تنظیم سازی کا حق حاصل ہے۔

روئٹرز نے فیکٹری کے جن ورکروں سے علیحدگی میں بات کی ان کا کہنا تھا کہ حالتِ کار بہت اچھے ہیں اور ان کی تنخواہ سو ڈالر ماہانہ کے برابر ہے اور سوشل سکیورٹی، لائف انشورنس اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات اس کے علاوہ ہیں۔ فیکٹری کے اندر ہی ایک سرکاری ہسپتال بھی قائم ہے۔

گذشتہ 40 برس میں اختر کا خاندانی کاروبار جو فارورڈ کے نام سے مشہور ہے، 50 مزدوروں سے 1400 مزدوروں تک وسعت پا گیا ہے۔ ان میں ایک چوتھائی خواتین ہیں۔ جن میں کئی حجاب پہنتی ہیں لیکن اکثر لڑکیاں شوخ رنگ کے لباس، زیور اور فینسی قسم کی جوتیاں پہنتی ہیں۔ تقریباً سب ہی کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے خاندان میں پہلی خاتون ہیں جو نوکری کر رہی ہے۔

38 سالہ شکیلہ اشرفی ایک ماں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے سب سے پہلے ٹی وی خریدا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جب فٹ بال ورلڈ کپ کے میچ شروع ہوں گے تو وہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ مل کر ٹی وی پر یہ میچ دیکھیں گی۔

انھوں نے کہا کہ وہ چاہیں گی کہ سب دیکھیں کہ ان کی بنائی ہوئی گیندیں ورلڈ کپ میں استعمال ہو رہی ہیں۔

اسی بارے میں