نوزائیدہ بچوں کی اموات کا کوئی اندراج نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption رپورٹ کے مطابق قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے یا ایسے بچے جو پیدائش کے کچھ ہی عرصے بعد موت کا شکار ہوجاتے ہیں، ان کی اموات کا اندراج اور سرکاری سطح پر اعتراف نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان اموات کو ناگزیر سمجھ کر قبول کر لیا جاتا ہے

دنیا میں ہرسال پچپن لاکھ بچے پیدائش کے کچھ ہی عرصے بعد موت کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان میں سے ایک بڑی تعداد کی پیدائش کا اندراج ہی نہیں کیا جاتا۔

قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے یا ایسے بچے جو پیدائش کے کچھ ہی عرصے بعد موت کا شکار ہوجاتے ہیں، ان بچوں کی پیدائش کا اندراج نہ ہونے کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔ حتیٰ کہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں بھی یہی صورتحال ہے۔

اس تحقیق کے سربراہ لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن اور سیو دی چلڈرن یوکے سےتعلق رکھنے والے پروفیسر جوائے لان ہیں۔ اس تحقیق میں 17 ممالک میں قائم 28 اداروں سے تعلق رکھنے والے 54 ماہرین کے ساتھ آغا خان یونیورسٹی پاکستان کے ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ، ڈاکٹر جے کے داس، ریحانہ اے سلام اور ارجمند رضوی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے یا ایسے بچے جو پیدائش کے کچھ ہی عرصے بعد موت کا شکار ہوجاتے ہیں، ان کی اموات کا اندراج اور سرکاری سطح پر اعتراف نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان اموات کو ناگزیر سمجھ کر قبول کر لیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حالیہ دہائیوں میں مردہ بچوں کی پیدائش یا پیدائش کے فوراً بعد بچوں کی ہلاکت کے حوالے سے اس نوعیت کے اقدامات نہیں کیے جا رہے جو ماں اور بچے کی زندگیوں کو محفوظ کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

دی لینسیٹ کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والی تحقیق ’ایوری نیوبورن سیریز‘ نوزائیدہ بچوں کی بقا کے امکانات کے حوالے سے واضح ترین تصویر پیش کرتی ہے اور ایسے اقدامات تجویز کرتی ہے جن سے شیرخوار بچوں کی اموات کا تدارک ہو سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پروفیسر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر واضح اقدامات کا عالمی سطح پر اطلاق کیا جائے تو 2025 تک تیس لاکھ زندگیوں کو بچایا جاسکتا ہے

اس رپورٹ کے مطابق حالیہ جائزے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہر سال تیس لاکھ ماؤں اور بچوں کی اموات کو آزمودہ تدابیر کی مدد سے روکا جاسکتا ہے، جن میں ماؤں کو اپنا دودھ پلانے کی ترغیب دینا، نوزائیدہ بچوں کی زندگی کی بحالی کی تدابیر، قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو ماں کے جسم کے قریب رکھنا، پیدائش سے قبل کورٹیکواسٹیرائڈز کا استعمال اور جراثیمی بیماریوں سے تحفظ اور ان کے علاج جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ان اقدامات کے اطلاق کے لیے سالانہ اخراجات کا تخمینہ 1.15 امریکی ڈالر فی کس لگایا گیا ہے۔

آغا خان ہپستال کے پروفیسر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر واضح اقدامات کا عالمی سطح پر اطلاق کیا جائے تو 2025 تک تیس لاکھ زندگیوں کو بچایا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر زچگی کے وقت اضافی دیکھ بھال فراہم کی جائے تو ان نتائج میں تین گنا اضافہ ہوسکتا ہے جن سے نا صرف ماؤں اور بچوں کی زندگی کو تحفظ حاصل ہوگا بلکہ مردہ پیدائشوں میں بھی کمی واقع ہوگی۔

تحقیق کے مطابق اس سلسلے میں سب سے زیادہ متاثرہ افریقی اور جنوبی ایشیائی ممالک ہیں، جن میں افغانستان، بنگلہ دیش، کانگو، انڈیا، کینیا، نائجیریا، پاکستان اور یوگنڈا شامل ہیں اور ان ممالک میں ماؤں اور بچوں کی ہلاکتیں دنیا بھر کی مجموعی ہلاکتوں کے نصف سے زائد ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تحقیق کے مطابق مسئلے میں سب سے زیادہ متاثرہ افریقی اور جنوبی ایشیائی ممالک ہیں

رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ امریکہ میں ڈاکٹر کم ڈکسن کی سربراہی میں کام کرنے والی یونیسیف کےعالمی ماہرینِ صحت کی ایک ٹیم نے ان ممالک میں موجود 600 سے زائد ماہرین صحت کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد اس بات کی نشاندہی کی کہ ماؤں اور بچوں کی اموات کے حوالے سے عمومی مسائل میں صحت عامہ کا عملہ، سرمایہ کاری اور خدمات کی فراہمی شامل ہیں۔

ملاوی، نیپال اور پیرو وہ ممالک ہیں جہاں حال ہی میں ماؤں اور بچوں کی اموات میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ ان ممالک نے اس مقصد کے حصول کے لیے تربیت یافتہ عملے خصوصاً دائیوں یا مِڈ وائف اور نرسوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

آغا خان یونیورسٹی کے پروفیسر ذوالفقار بھٹہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں تقریباً پچھلی تین دہائیوں سے نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں تبدیلی نہیں آئی ہے، تاہم اگر نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے مقامی آبادی کی شمولیت پر مبنی تدابیر اور لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام پر خاص توجہ دی جائے اور ضلعی سطح پر صحت عامہ کی سہولیات اور اس حوالے سے روابط کو بہتر کیا جائے تو ہر سال ڈیڑھ لاکھ سے زائد نوزائیدہ بچوں کی زندگی بچائی جاسکتی ہے جو کہ سالانہ اموات کا 80 فی صد ہے۔

یونیسیف پاکستان کی صحت کے شعبے کی سربراہ ڈاکٹر تانیہ گولڈنر کا کہنا ہے کہ 2012 میں ’اے پرومس رینیوڈ‘ کے تحت پاکستان نے ماں اور بچے کی اموات میں واضح کمی کا عہد کیا جس کے تحت نوزائیدہ بچوں کی بقا پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ای این اے پی فریم ورک کے تحت اب پاکستان کے پاس ایک نادر موقع ہے کہ وہ تحقیقی جائزوں میں سامنے آنے والی مشکلات کی نشاندہی ہونے کے بعد ضروری حل تلاش کرے۔

اسی بارے میں