’قبائلی بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں شامل ہے جہاں سے اب تک پولیو کو ختم نہیں کیا جا سکا

پاکستان کی نیشنل ہیلتھ سروسز کی وزیرِ مملکت سائرہ افضل تاررڑ نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں کے کچھ حصوں کا محاصرہ کر کے ان بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے جن تک شدت پسندوں کی پابندی کے باعث رسائی نہیں ہے۔

سائرہ افضل تاررڑ نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم نواز شریف خود انسدادِ پولیو مہم کی نگرانی کریں گے۔

ان کا کہنا تھا ’وزیرِاعظم نواز شریف نے فوج کے سربراہ راحیل شریف سے کہا ہے کہ فوج قبائلی علاقوں سے ملک کے دوسرے حصوں کی طرف آنے والے لوگوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے عمل کی نگرانی کرے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ لوگوں میں پولیو کے مرض کے خلاف آگاہی پھیلانے کے لیے اس مہم پر وسائل استعمال کیے جائیں گے اور ان علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی جہاں پولیو کا گڑھ ہے۔

سائرہ افضل تاررڑ نے اعتراف کیا کہ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے سفری پابندیوں کی سفارشات پاکستان کے لیے عالمی سطح پر شرمندگی کا باعث ہیں اور اس معاملے میں کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں پولیو کا موضوع سرِ فہرست ہو گا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ صرف پولیو کا معاملہ پاکستان کے لیے شرمندگی کا باعث نہیں، ٹیکوں کے پروگرام اور صحت کی سہولیات کی صورتِ حال بھی شرمناک ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ پولیو کے کیس سنہ 2011 میں سامنے آئے تھے جن کی تعداد 198 تھی جبکہ اس سال اب تک 66 بچے اس مرض کا شکار ہو گئے ہیں۔

پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں شامل ہے جہاں سے اب تک پولیو کو ختم نہیں کیا جا سکا۔

عالمی ادارۂ صحت کی طرف سے حال ہی میں پاکستانیوں کے بیرون ملک سفر پر پابندی کے خدشے کے پیش نظر حکومت ِ پاکستان نے بیرون ملک سفر کرنے والے تمام مسافروں کو یکم جون سے ہوائی اڈوں پر پولیو کے قطرے پلانا لازمی قرار دے دیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے پانچ مئی کو جاری ہونے والی ہدایات میں پاکستان، شام اور کیمرون کو پولیو کے پھیلاؤ کے حوالے سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے ان ممالک کے شہریوں کو بیرونِ ملک سفر سے قبل لازماً پولیو کے قطرے پلائے جانے کو کہا تھا۔

اسی بارے میں