جیو تنازع: پیمرا بمقابلہ پیمرا

تصویر کے کاپی رائٹ GEO
Image caption ’پیمرا کے اجلاس میں ایک تہائی ممبران موجود تھے جبکہ حکومتی اراکین نے اجلاس میں شرکت نہیں کی‘

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا نے اپنے ہی پانچ ارکان کی طرف سے جیو ٹی وی کے تین لائسنس معطل اور اس کے دفاتر سیل کرنے کے فیصلوں سے لاتعلق کا اظہار کر دیا ہے۔

پیمرا کے سرکاری لیٹر ہیڈ پر جاری ہونے والے پریس ریلیز میں کہا گیا کہ پیمرا کا جیو ٹی چینل کے لائسنسوں کی معطلی کے فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ نو مئی سنہ دو ہزار چودہ کو اتھارٹی کے پچانوے اجلاس میں اکثریتی ارکان نے اس معاملے پر وزارتِ قانون کی رائے لینے کے لیے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ معاملہ وزارتِ قانون کو بھیج دیا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ نیک نیتی سے کیا گیا تھا تاکہ مستقبل میں اس اہم معاملے پرکوئی قانونی پیچیدگی پیدا نہ ہو جائے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جیو انٹرٹینمنٹ کے خلاف شکایت کو پہلے ہی کونسل آف کمپلینٹس سندھ کو بھیج دیا گیا تھا۔ کونسل آف کمپلینٹس نے منگل کو ہونے والے اپنے اجلاس میں جیو کے لائنسس کے بارے میں اپنی سفارشات مرتب کر لی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ سفارشات اور اجلاس کی تفصیل کا پیمرا اتھارٹی انتظار کر رہی ہے اور ان پر اپنے آئندہ طے شدہ اجلاس میں غور کرے گی۔

پیمرا کے بیان میں جس پر نہ کسی ترجمان کے دستخط تھے اور نہ ہی کس کا نام وضاحت کی گئی کہ منگل کو ہونے والے اجلاس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور یہ اجلاس قواعد اور ضوابط کے مطابق طلب نہیں کیا گیا تھا۔

قبل ازیں پیمرا کے تین ارکان نے منگل کی رات کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ پیمرا کے اجلاس میں جس میں پانچ ارکان نے شرکت کی نجی ٹی وی چینل جیو کے تین چینلز کے لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں پیمرا اتھارٹی کے کسی سرکاری رکن نے شرکت نہیں کی۔

پیمرا کے رکن اسرار عباسی نے پیمرا کے اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ جیو نیوز، جیو تیز اور جیو انٹرٹینمنٹ کے لائسنس معطل کر دیےگئے ہیں اور ان کے دفاتر فوری طور پر سیل کر دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

’گھیرا تنگ ہو رہا ہے‘ سنیے

’بتائیں کیو نہ آپ کی نشریات بند کردی جائیں‘

جیو ٹی وی چینل کو بند کریں: وزارت دفاع کی درخواست

اسرار عباسی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا 28 مئی کو دوبارہ اجلاس ہوگا جس میں جیو کے لائسنس کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

’اس اجلاس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے کیونکہ یہ اجلاس پیمرا کے قوانین 3(4) کے مطابق نہیں بلایا گیا تھا۔ پرائیوٹ ممبران اپنے آپ اجلاس طلب نہیں کر سکتے۔‘

پیمرا کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نو مئی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ آئندہ اجلاس وزارت قانون کی جانب سے ایڈوائزری کے بعد ہی طلب کیا جا سکے گا۔

اس سے قبل پیمرا کے پرائیوٹ رکن اسرار عباسی نے مزید بتایا کہ پیمرا کے اجلاس میں ایک تہائی ممبران موجود تھے جبکہ حکومتی اراکین نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

اس سے پہلے پیمرا کے رکن میاں شمس نے بتایا کہ پیمرا کے ڈی جی آپریشنز کو احکامات جاری کر دیےگئے ہیں کہ جیو نیوز، جیو تیز اور جیو انٹرٹینمنٹ کے دفاتر سیل کر دیے جائیں۔

انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیو نیوز کی نشریات آج یعنی منگل کی رات بارہ بجے بند کردی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اگر جیو نے نشریات بند نہ کیں تو پولیس کی مدد بھی لی جا سکتی ہے۔

اسرار عباسی نے کہا کہ جیو کے چار لائسنسوں کو سکیورٹی کلیئرنس کے لیے وزارتِ داخلہ کو بھیج دیےگئے ہیں۔

اس سلسلے میں جب جیو نیٹ ورک کے صدر عمران اسلم سے بات کی گئی تو انھوں نے کہا کہ ابھی صورتحال واضح نہیں ہے اور وہ ابھی اس پر بیان دینے سےگریز کریں گے۔

اسرار عباسی نے کہا کہ ’ آئی ایس آئی نے پچھلے ایک ماہ میں جس صبر وتحمل اور برداشت سے کام لیا ہے، پیمرا کو درخواست دی اور پیمرا کے فیصلے کا انتظار کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔‘

اسرار عباسی نے بتایا کہ ’پیمرا کے ممبران کو بتایا گیا ہے کہ جیو نیوز کا لائسنس معطل کرنے کے بارے میں تحریری فیصلے سے پیمرا کے تمام دھڑوں کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں ہمیں بتایا گیا کہ یہی مواد جیو تیز پر بھی چلا تھا اس لیے اتھارٹی نے جیو تیز کا لائسنس معطل کیا ہے تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔‘

جیو انٹرٹینمنٹ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے اسرار عباسی نے کہا کہ آج اجلاس کے دوران ہی یہ بھی بتایا گیا کہ کراچی میں پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹس نے فیصلہ کر لیا ہے اور اپنی سفارشات بھیج دی ہیں جس کے بعد اتھارٹی کے اختیارات کے تحت جیو انٹرٹینمنٹ کا لائسنس بھی معطل کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ وزارت دفاع نے وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے پیمرا آرڈیننس سنہ 2002 سیکشن 33 اور 36 کے تحت پیمرا حکام کو درخواست دی گئی تھی کہ جیو کی ادارتی ٹیم اور انتظامیہ کے خلاف مقدمے کا آغاز کیا جائے۔

وزارتِ دفاع کی طرف سے پیمرا کو جیو نیوز کے خلاف درخواست میں خبروں اور حالات حاضرہ کے اس نجی ٹی چینل کی نشریات کو فوری طور پر معطل کرنے اور حقائق کا جائزہ لینے کے بعد اس کا لائسنس منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

وزارت دفاع نے موقف اختیار کیا تھا کہ ریاست کے ایک ادارے کے خلاف توہین آمیز مواد چلایا گیا ہے جو کہ نہیں چلایا جانا چاہیے تھا۔

اسی بارے میں