’آئین کا تحفظ کرنے والے غدار اور توڑنے والے وفادار‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سینیٹ میں ملک میں جاری کشیدہ صورت پر بحث ہو رہی ہے

جمعیت علمائِے اسلام (ف) کے سینیٹر حافظ احمد اللہ نے کہاہے کہ سرحدوں کے تحفظ پر قوم نے ہمیشہ فوج کی تعریف کی ہے لیکن جب فوج نے سیاست میں قدم رکھا ہے تو عوام کی جانب سے فوج کو ہمیشہ تنقید کا سامنا بھی رہا ہے کیونکہ کوئی بھی شخص جنرل ایوب خان اور یحیی خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف اور ضیاء الحق نے جو اقدامات کیے اس پر کوئی بھی ان کی تعریف کرنے کو کوئی تیار نہیں ہے۔

یہ بات انھوں نے منگل کے روز ڈپٹی چیئرمین صابر بلوچ کی صدارت میں ہونے والے سینیٹ کے اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہا کہ صحافی حامد میر پر حملے سے قبل بھی فوجی جرنیلوں اور آفیسروں نے ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔سابق صدر جنرل پر ویز مشرف نے2011 میں ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران الزام لگایا تھا کہ آئی ایس آئی میں بعض ایسے عناصر موجود ہیں جوغلط کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

جبکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل شجاع پاشا نے جنرل پرویزمشرف پر الزام لگایا تھا کہ بلوچستان میں شمسی ائیربیس کو مشرف نے ہی امریکہ کے حوالے کیا تھا جہاں سے امریکہ اپنے جاسوسی طیاروں کے ذریعے پاکستان میں ڈرون حملے کررہا تھا۔

جبکہ جنرل پاشا نے ایبٹ آباد کمیشن کے سامنے بھی اعتراف کیا تھا کہ آئی ایس آئی میں کچھ عناصر ہیں جو بےگناہ اور قدآور لوگوں کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں۔

حافظ احمداللہ نے کہا کہ جب جنرل مشرف پر دو دفعہ قاتلانہ حملے ہوئے تو اس وقت بھی فوج کے اندر سے یہ بات نکلی کہ ان حملوں میں آئی ایس آئی ملوث ہے۔

انھوں نے سوال کیا کہ غداری کا الزام صرف حامد میر پر کیوں لگایا گیا ہے بلکہ ان جرنیلوں کو بھی اس کا سامناکرنا چاہے جنہوں نے اس سے قبل آئی ایس آئی پر الزامات لگائےتھے۔

انھوں نے کہا کہ جرنیلوں کی ان باتوں سے ثابت ہوگیا کہ آئی ایس ائی کے اندر ایک اور آئی ایس آئی موجود ہے جوکسی کے کنٹرول میں نہیں ہے وہ جب چاہے کسی کو ماردے کسی کواغواء کرے یاکسی کوغائب کردے۔

جمیعت علماء اسلام کے سینیٹر نے مذید کہا کہ اس ملک میں دو قوتیں ہیں ایک آئین بنانے والے اور دوسرے اس کو توڑنے ہیں۔ آئین کا تحفظ کرنے والے غدار اور آئین توڑنے والے وفادار کہلاتے ہیں۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے آئین بنایا توضیاالحق نے اس سے پھانسی پر لٹکا دیا۔

انھوں نے بلوچستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں آئے روز لوگ اٹھایے جاتے ہیں لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں جس پر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے خود کہا تھا کہ آئی ایس آئی میں ڈیتھ سکوارڈ موجودہے جسے ختم کیا جائے۔

اس کے علاوہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا تھا کہ جنرل پاشا پاکستان تحریک انصاف کو بنانے میں عمران خان کی مدد کر رہے ہیں لیکن چوہدری افتخار اور چوہدری نثار پر توآج تک غداری کا مقدمہ قائم نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ 65 سالوں میں یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کا اس ملک میں غداری یا وفاداری کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے پارلیمنٹ یا اس ادارے کے پاس جو عوام کے خون پسینے کی کمائی پر چل رہا ہو۔ اس کا فیصلہ کون کرے گا اور آج تک یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کہ اس ملک کا اصل مالک پارلیمنٹ ہے یا وہ ادارہ جن کے ملازمین کا تنخواہ عوام کے ٹیکسوں سے ادا کی جا رہی ہوں۔

حافظ احمد اللہ نے جیوٹی وی پر بھی سخت تنقید کی اورکہا کہ ایک ادارے کے سربراہ کی تصویر بار بار ایک مجرم کی طرح دکھائی گئی تھی جوکہ ناقابل برادشت ہے اور کوئی بھی باشعور شخص اس حرکت کی حمایت نہیں کرسکتا ہے لیکن پانچ سال تک ملک کے صدرآصف علی ذرداری اور ان کی تصاویر کو جن الفاظ اورالقابات سے چلایاگیا اس پر کسی ادارے نے یہ نہیں کہا کہ اس سے ملک وقوم کی بدنامی ہو رہی ہے کیااس وقت عالمی سطح پر پاکستان کی بے عزتی نہیں ہو رہی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کےرکن چوہدری جعفر اقبال نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو بچانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ پاکستان ہوگا توپارلیمنٹ ہوگی، میڈیا ہاوسز ہونگے اور ادارے ہونگے۔ انھوں نے عمران خان کی جانب سے احتجاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کو کمزور کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

سال کے2013 انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگانے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے وہ جس طرح سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں اس سے غیرجمہوری قوتوں کو فاہدہ ہو رہا ہے۔

مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایک دوسرے پر تنقید کرنے کی بجائے ملک کو اس بحران سے نکالنے میں اپنا کردا ر ادا کریں۔

اسی بارے میں