بلوچستان: تشدد کے واقعات میں سات افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہوشاب میں اطلاعات کے مطابق حملے اور جوابی حملے کے دوران ایک راکٹ ہوٹل پر گرا جس میں ایک شخص ہلاک ہو گیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ میں بدھ کے روز تشدد کے دو مختلف واقعات میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ان میں سے چھ افراد کی ہلاکت کا واقعہ ضلعے کے علاقے دشت میں پیش آیا۔

دشت کھڈان کے تحصیلدار نورخان نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں علی الصبح چار بج کر45 منٹ پر نامعلوم مسلح افراد ماسٹر عبد الحمید کے گھر پر آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان مسلح افراد نے گھر کے صحن میں سونے والے چھ افراد پر کلاشنکوف سے اندھا دھند فائرنگ کی۔

فائرنگ کے باعث تمام افراد ہلاک ہوگئے۔

تحصیلدار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد مرد تھے اور ان میں سے پانچ آپس میں رشتہ دار تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ایک دوسرے واقعے میں اسی ضلعے کے علاقے ہوشاب میں ایک ہوٹل پر راکٹ گرنے سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

تر بت میں لیویز فورس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ راکٹ گرنے سے ہلاک ہونے والا شخص ہوٹل کا مالک تھا جو ہوٹل کے اندر سویا ہوا تھا۔

بعض اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملہ کیا تھا جبکہ سکیورٹی فورسز نے جوابی فائرنگ کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق اس حملے اور جوابی حملے کے دوران ایک راکٹ ہوٹل پر گرا جس میں ایک شخص ہلاک ہوا۔

ضلع کیچ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں شورش کے باعث امن و امان کی صورتحال زیادہ خراب ہے۔

دوسری جانب گذشتہ روز سبی کے قریب ڈنگڑا کے علاقے میں ریلوے لائن پر دھماکے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ ریپبلیکن گارڈز نے قبول کی ہے جبکہ سندھ کے شہر حیدرآباد کے قریب گیس پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ ریپبلیکن آرمی نے قبول کر لی ہے۔

اسی بارے میں