پشاور میں پہلی ڈیجیٹل کانفرنس

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں اپنے طرز کی پہلی ڈیجیٹل کانفرنس منعقد ہوئی جس میں نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے روزگار حاصل کرنے اور کمپیوٹر کے میدان میں اپنے جوہر دکھانے کے لیے راغب کیا گیا ہے۔

دو روزہ کانفرنس میں دنیا بھر سے چھیاسٹھ ملکی اور غیر ملکی ماہر شامل ہیں جو ’الیکٹرانکس یا ای کامرس، فری لانسرز اور سٹارٹ اپس‘ کے لیے نوجوانوں کو معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ پہلے روز ایک ہزار سے زیادہ نوجوانوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی ہے ۔

خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز کے نوجوان طالب علم تاشفین نے کہا کہ انھوں نے اپنے شہر سے آن لائن کام شروع کیا اور اب وہ خود لوگوں کو اپنی ویب سائٹ سے پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں۔

اس کانفرنس میں مختلف موضوعات پر ماہرین اور اس شعبے میں کام کرنے والے نوجوانوں کے درمیان بحث کی گئی اور نوجوانوں کو بتایا گیا ک وہ کیسے کمپیوٹر اور دیگر جدید ڈیجیٹل آلات سے اپنے لیے بہتر روزگار کما سکتے ہیں۔

خیبر پختونخوا آئی ٹی بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر صدیق اللہ نے بتایا کہ اس کانفرنس سے روزگار کے نئے راستے تلاش کرنا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے اسی لی اب یہاں باہر سے بھی لوگ آئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے دو آئی پاس ہیں جس میں پچہتر کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں اور اس سلسلے میں زیادہ کاروبار افغانستان سے ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان، امریکہ اور بھارت کے بعد دوسرے نمبر پر ہے جہاں اس حوالے سے بہت کام ہو رہا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں ماہرین نوجوانوں کو بتائیں گے کہ وہ کیسے آن لائن کام کر سکتے ہیں اور پھر زر مبادلہ کیسے کما سکتے ہیں۔

اس کانفرنس کے منتظم فیصل خان نے بتایا کہ اس کانفرنس میں ہر سطح کے لوگ اور کمپنیاں موجود ہیں جہاں ایکسپو اور سٹارٹ اپس کے حوالے سے لوگوں کو سمجھاتے ہیں اور ان کے لیے رابطے قائم کر تے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عام سطح پر آن لائن ’فری لانسرز‘ آسان طریقہ ہے جس سے گھر بیٹھے لوگ پیسے کما سکتے ہیں جبکہ ہنر مند لوگ اسی میدان میں زیادہ اچھا کام کرکے زیادہ کمائی کر سکتے ہیں۔

اس کانفرنس کے منتظمیں نے پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے علیحدہ علیحدہ ڈیسک قائم کیے تھے جہاں سے دنیا بھر میں اس کانفرنس کے حوالے سے لمحہ بہ لمحہ لوگوں کا آگاہ رکھا گیا ۔

اس کانفرنس میں غیر ملکی کمپنیوں کے نمائندوں نے بھی نوجوانوں کو بتایا کہ وہ کیسے ان کی کمپنی کے ساتھ رابطے رکھ کر کام کر سکتے ہیں۔

اس کانفرنس کو دیکھ کر ایسا کوئی تاثر سامنے نہیں آ رہا تھا کہ یہ شہر دہشت گردی اور شدت پسندی کے واقعات سے بھرا پڑا ہے اور یہاں ہر لمحہ یہ دھچکا لگا رہتا ہے کہ کسی لمحے کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔

اسی بارے میں