جیو سے متعلق پیمرا کا فیصلہ حتمی ہوگا: پرویز رشید

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومت نے پیمرا کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے: پرویز رشید

پاکستان کی وزارتِ قانون نے نجی ٹی چینل جیو کے معاملے پر فیصلے کا اختیار پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو دے کر سمری وزارتِ اطلاعات کو بھجوا دی ہے۔

وزارتِ قانون کی جانب سے دی جانے والی رائے میں کہا گیا ہے کہ جیو کا معاملہ سیمی جوڈیشل ہے لہٰذا پیمرا ہی اس بارے میں فیصلہ کرے۔

دوسری جانب حکومت نے پیمرا کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کمیشن میں آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی، کونسل فار پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز اور پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے شامل کیے جائیں گے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں قانون و انصاف کی وزارت سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیمرا کے اختیارات اور اس کے فیصلوں میں کوئی وزیر مداخلت نہیں کر سکتا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت ایسا کمیشن بنانا چاہتی ہے جس پر سب متفق ہوں۔

پرویز رشید نے کہا کہ جیو سے متعلق پیمرا کا فیصلہ حتمی ہوگا اور وزارتِ اطلاعات اس میں مداخلت نہیں کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ کمیشن بنانے کا مقصد پیمرا کے فیصلوں پر عمل درآمد کروانا ہے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا گذشتہ کچھ عرصے سے پیمرا کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تھا جس سے اس کے ساکھ متاثر ہو رہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ پیمرا کے 22 ایسے فیصلے ہیں جن پر عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کیا گیا ہے۔

پرویز رشید نے کہا کہ اس کمیشن کی تشکیل کے لیے اُنھوں نے جیو کے مالک میر شکیل الرحمٰن سمیت دیگر نجی ٹی وی چینلوں کے مالکان سے ملاقاتیں کی ہیں جس میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔

منگل کو پیمرا کے پرائیویٹ ارکان کی جانب سے بلائے گئے اجلاس اور اس میں جیو کے تین چینلوں کے لائسنس معطل کرنے کے فیصلے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں پرویز رشید نے کہا کہ اس اجلاس کے بعد پیمرا کے ترجمان کی جانب سے جو بیان جاری ہوا وہ اس کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ فوج اور حکومت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اور تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کر رہے ہیں۔

جیو کےمارننگ شو ’اُٹھو جاگو پاکستان‘ میں چلنے والے پروگرام، جس کے تحت توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، اس کے بارے میں پرویز رشید کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کی اینکر پرسن نے معافی مانگ لی ہے تو مہذب معاشروں میں اس معافی کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ کفر کے فتوے تو ان پر لگے ہیں اور انھوں نے اپنے بچوں کو کہا ہے کہ اگر ان فتوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے انھیں کچھ ہوگیا تو وہ اس کا مقدمہ لے کر عدالتوں میں نہ جائیں بلکہ وہی کچھ کریں جو بیمار ذہنوں کو ٹھیک کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں