’طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی‘

Image caption سردار مہتاب نے کہا کہ وزیرستان میں کوئی غیر اعلانیہ کارروائی نہیں ہورہی بلکہ آپریشن کا کوئی اعلان کیا ہی نہیں جاتا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے گورنر سردار مہتاب احمد خان نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ حکومت کو ابھی تک طالبان کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

پشاور اور مہمند ایجنسی کے صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے ساتھ بات چیت کا عمل انتہائی پیچیدہ ہے جسے حل کرنا اتنا آسان نہیں۔

’فوج طالبان سے مذاکرات میں رکاوٹ نہیں‘

سردار مہتاب احمد خان کا کہنا تھا: ’حکومت نے بڑے خلوص کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا اور اس کےلیے ماحول بنانا پڑا ہے لیکن میرا خیال میں یہ اتنا آسان کام نہیں، کچھ حقائق ایسے ہیں جنھوں بتایا نہیں جاسکتا جس کی وجہ سے مشکلات پیش آرہی ہیں۔’

انھوں نے کہا کہ ’ اب تک حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ہے تاہم مایوسی گناہ ہے اس عمل میں وقت لگتا ہے۔‘

شمالی وزیرستان میں جاری حالیہ غیر اعلانیہ آپریشن کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سردار مہتاب نے کہا کہ وزیرستان میں کوئی غیر اعلانیہ کارروائی نہیں ہورہی بلکہ آپریشن کا کوئی اعلان کیا ہی نہیں جاتا۔

گورنر سردار مہتاب احمد خان کا کہنا تھا: ’وزیرستان میں فوج جو کچھ کر رہی ہے وہ بالکل ٹھیک کر رہی ہے، فوج کو اپنے کام کا بخوبی پتہ ہے کہ انھیں کیا کرنا ہے اوراس کے نتائج بھی درست نکلتے ہیں اور حکومت کو بھی فوج پر مکمل اعتماد ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس تاثر میں کوئی حقیقت نہیں کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر فوج اور حکومت کا موقف الگ الگ ہے۔ ان کے بقول ’پالیسی فیصلے حکومتیں کرتی ہیں اور تمام اداروں کو اس پر عمل درآمد کرنا پڑتا ہے یہ ہر جگہ حکومتوں میں ہوتا ہے۔‘

سردار مہتاب کے مطابق ’ہماری فوج ہمارے لیے لڑ رہی ہے، پوری قوم کےلیے قربانی دے رہی ہے۔ جانیں دینا کوئی بچوں کا کھیل نہیں، فوج کو جو ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ اس پر پوری طرح کار بند ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ مہمند ایجنسی میں حالات پہلے کے مقابلے میں کافی حد تک بہتر ہوئے ہیں اور زیادہ تر علاقوں پر حکومت کی عمل داری بحال ہوچکی ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ان کی کوشش ہے کہ قبائلی علاقوں میں اب اگلے مرحلے پر سویلین انتظامیہ کو تمام اختیارات منتقل کیے جائیں تاکہ وہ خود پہلے کی طرح ایجنسی کا سارا انتظام چلائیں لیکن اس عمل میں وقت لگے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سمیت کئی اہم ایشوز پر مشاورت جاری ہے اور رفتہ رفتہ تمام معاملات حل ہوجائیں گے۔

خیبر ایجنسی میں ایک شدت پسند تنظیم کی طرف سے لوگوں کو دھمکیاں دینے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ انھیں حالات کا پوری طرح علم ہے اور انتظامیہ کو اس سلسلے میں حکم جاری کیا جا چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنا حکومت کا کام ہے جس کا ہر حال میں تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

گورنر سردار مہتاب احمد خان نے تقریباً ایک ماہ پہلے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ صوبے کے گورنر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ قبائلی علاقوں کے نگران کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں اور اب تک انھوں نے دو قبائلی ایجنسیوں کا دورہ کیا ہے۔

اسی بارے میں