فضائی حملے میں اہم کمانڈروں سمیت 60 شدت پسند ہلاک: فوج

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مقامی لوگوں کے مطابق آدھی رات کے وقت بڑی تعداد میں جنگی طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹرز شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں داخل ہوئے اور پھر بعض ٹھکانوں سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں فوج کے مطابق شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں60 سخت گیر شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستان کی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق مصدقہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو فضائی کارروائیوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

شمالی وزیرستان:دھماکے میں نو سکیورٹی اہلکار ہلاک

وزیرستان میں کرفیو کی وجہ سے خوراک کی قلت

بیان کے مطابق بدھ کی صبح کی جانے والی ان کارروائیوں میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق چند اہم کمانڈروں سمیت 60 سخت گیر شدت پسند ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں شدت پسندوں میں غیرملکی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فضائی حملوں میں بھاری مقدار میں اسلحہ اور دیسی ساختہ بموں کی تیاری میں استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق قبائلی علاقوں، صوبہ خیبر پختونخوا اور کراچی میں حالیہ ہفتوں دیسی ساخت کے بم دھماکوں میں عام شہری اور سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی ہے۔

بیان میں خفیہ معلومات اور دیگر تحقیقات کی بنیاد پر تصدیق کی گئی ہے کہ شدت پسندی کے ان واقعات کا تعلق شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائی میں نشانہ بنائے جانے والے شدت پسندوں سے تھا۔

شمالی وزیرستان میں مقامی لوگوں کے مطابق بدھ کی صبح سویرے میران شاہ اور میر علی کے قریبی علاقوں میں مخصوص مقامات پر بمباری کی گئی ۔

مقامی لوگوں کے مطابق آدھی رات کے قریب بڑی تعداد میں جنگی طیارے اور گن شپ ہیلی کاپٹر شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں داخل ہوئے اور پھر بعض ٹھکانوں سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان حملوں میں کن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

شمالی وزیرستان ایجنسی میں اب تک کی یہ سب سے بڑی فوجی کارروائی سمجھی جا رہی ہے۔ دو ماہ پہلے بھی میر علی اور میران شاہ کے قریبی علاقوں میں بمباری کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ یہ اختلاف بھی پایا جاتا تھا کہ آیا ہلاک ہونے والے شدت پسند تھے یا عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ان حملوں میں مزدوروں سمیت بے گناہ شہری ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستانی فوج کی جانب سے اکثر شدت پسندوں کے زیرِ اثر قبائلی علاقوں میں زمینی یا فضائی حملوں میں شدت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے سامنے آتے رہتے ہیں تاہم آزاد ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہو پاتی۔

اسی بارے میں