کراچی: لیڈی ہیلتھ ورکر ہلاک

Image caption مقتولہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی مقامی سپروائزر تھیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک لیڈی ہیلتھ ورکر کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں مقتولہ کا شوہر ملوث ہے۔

ایس پی گلشن اقبال تنویر شیخ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ جمعرات کی صبح تین بجے کے قریب سچل گوٹھ تھانے کی حدود میں پیش آیا جس میں مسماۃ نسیم اختر کو ان کے شوہر منیر احمد نے فائر کر کے قتل کر دیا اور فرار ہوگیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں تاہم ابھی واقعے کی وجوہات سامنے نہیں آئی ہیں۔

مقتولہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی مقامی سپروائزر تھیں جب کہ ان کے شوہر بیروزگار تھے۔

خیال رہے کہ نسیم لانڈھی کے علاقے میں تعینات تھیں جس کا شمار پولیو مہم میں حساس علاقوں میں کیا جاتا ہے۔

مقتولہ تین بچوں کی ماں تھیں۔ پولیس نے ان کے بڑے بیٹے شاہزیب کی مدعیت میں منیر شیخ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

پاکستان کے کچھ دیگر علاقوں کی طرح کراچی میں بھی پولیو مہم میں شریک لیڈی ہیلتھ ورکرز گھریلو دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

خیال رہے کہ کراچی میں رواں برس جنوری میں انسداِ پولیو مہم کے کارکنان پر حملے کے نتیجے میں دو خواتین سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

واقعے کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکروں کی تنظیم نے تحفظ فراہم نہ کیے جانے پر مہم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا کر دیا تھا۔

کراچی میں گذشتہ سال بھی چار پولیو رضاکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

گذشتہ برس جولائی میں کراچی ہی کے علاقے سہراب گوٹھ کی کچی آبادی مچھر کالونی میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جانے کی مہم میں شامل اقوام متحدہ کی گاڑی پر فائرنگ سے ایک غیر ملکی ڈاکٹر ڈیوڈ فاسٹن اور ان کے پاکستانی ڈرائیور زخمی ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے تین دن بعد اسی علاقے کی ایک مضافاتی بستی جونیجو کالونی میں عالمی ادارۂ صحت کے لیے کام کرنے والے اسحٰق نور نامی شخص کو نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

اسی بارے میں