صد افسوس کہ یہ قاتلانہ بکواس ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رضا رومی پر حملے کے خلاف پاکستان میں صحافیوں اور حقوقِ انسانی کے کارکنوں نے احتجاج کیا تھا

ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان کے سربراہ علی دایان حسن نے 11 سال تک اس عالمی ادارے کے ذریعے انسانی حقوق کی لڑائی لڑنے کے بعد حال ہی میں اپنے عہدے سے استعفٰی دینے کا فیصلہ کیا۔

ان کا شمار پاکستان میں انسانی حقوق کے دلیر ترین محافظوں میں ہوتا ہے۔ لیکن نوکری چھوڑنے کے بعد ان کے دل میں کیا ہے، وہ کیا سوچ رہے ہیں، اس پر ان کی تحریر یہاں قسط وار پیش کی جا رہی ہے۔

ہمیں اس پر اپنی رائے ضرور دیجیے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

28 مارچ کو میرا 30 سال پرانا دوست رضا رومی جو صحافی ہونے کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے، ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے سے بچ گیا۔ اس کا یوں گولیوں کی بوچھاڑ سے بحفاظت نکل آنا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔

آج کل وہ کسی محفوظ جگہ پر ہے اور پاکستان کے کرتا دھرتاؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس کی زندگی کی ضمانت صرف اسی صورت دے سکتے ہیں کہ وہ ان محفوظ دیواروں سے باہر نہ آئے۔

پولیس کچھ نہیں کرے گی، کوئی بھی کچھ نہیں کرے گا۔ ہمارے ہزارہا لوگ انھی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے ہیں لیکن کسی نے کچھ نہ کیا۔

میں محض شکرگزار ہی ہو سکتا ہوں کہ رضا زندہ ہے اور میں بھی۔

لیکن تشکر اور اطمینان کے اس احساس سے نمٹنے کے لیے بھی کچھ کرنا ضروری تھا سو میں نے ایک ایسا راستہ لیا جو باغیانہ تو شاید تھا ہی، احمقانہ بھی تھا، غیر ذمہ دارانہ بھی تھا اور یہ عین ممکن تھا کہ اس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہ ہوتا۔

یہ رستہ لاہور کی گلیاں تھیں، جن میں میں تنہا نکل گیا۔ ایسا لوگ اکثر کرتے ہیں، میں تو اکثر کرتا تھا کم از کم اس وقت تک کہ مجھے سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے اپنی نقل و حرکت محدود کرنے کی مجبوری اور شرمندگی سے نہ گزرنا پڑا۔

شاید رضا بھی یہی کرتا تھا، جب تک اس کی زندگی کی قیمت جلا وطنی یا چاردیواری کی خود ساختہ قید نہ رکھ دی گئی۔

رضا سیاسی تجزیہ کار ہے، ٹی وی اینکر بھی اور میں ایک انسانی حقوق کا کارکن۔ مجھے کہا جاتا ہے کہ میری حقوق کی جدوجہد انتہائی تقاضوں پر مبنی ہے۔ گو اسے میرے مسئلے کے طور پر بیان کیا جاتا ہے لیکن میں سمجھ نہیں سکا کہ میں اپنا فرض اور کیسے نبھا سکتا ہوں۔

لیکن میری نسبت ایک ٹی وی اینکر کے طور پر شاید رضا کے لیے سمجھوتے کی گنجائش کچھ زیادہ تھی۔ اس کی زبان محتاط رہتی، وہ مکروہ حقائق سے درگزر کرتا اور کئی دفعہ ایسوں کو بھی پچکارتا جو صرف ملامتی دھتکار کے لائق ہوتے۔

لیکن آج کل کے پاکستان میں چاہے کتنے بھی پیار اور احتیاط سے آپ عقل کی بات کرنا چاہیں، تو آپ کو فوراً ’لبرل ایکسٹریمسٹ‘ یا آزاد خیال انتہاپسند کا خطاب دے دیا جاتا ہے۔

گویا اگر آپ بھی اسی لگن سے تعصب، ظلم اور تشدد کی مخالفت کریں جس شدومد سے تعصب، ظلم اور تشدد کا پرچار کیا جاتا ہے تو آپ بھی اسی متعصب، ظالم اور پرتشدد سکے کا دوسرا رخ تصور کیے جاتے ہیں۔

صرف یہی نہیں، اس صورت میں بھی دہشت گرد آپ سے بہتر ہی سمجھا جاتا ہے کیونکہ کم از کم وہ مقامی تو ہوتا ہے، لبرل ایکسٹریمسٹ کی طرح مغرب کا مذموم آلۂ کار تو نہیں۔

ایسا ہرگز نہ سمجھیے گا کہ لبرل ایکسٹریمسٹ کی اصطلاح وضح کرنے والے ریاستی ’پروپیگینڈسٹ‘ یا مذہبی انتہا پسند ہیں۔ اس اصطلاح کے بانی انتہائی با اثر لوگ، رائے عامہ ہموار کرنے والے، ان کے حواری اور چاہنے والے ہیں۔

لبرل ایکسٹریمسٹ کی اصطلاح کا مقصد آپ کو مکمل طور پر ناقابل قبول اور قابل نفرت بنانا ہوتا ہے اور ایک دفعہ آپ پر یہ لیبل لگ جائے تو پھر خود بخود آپ اپنے تمام حقوق کھو بیٹھتے ہیں۔

اس سے کہیں زیادہ خطرناک حقیقت یہ ہے کہ اس تخیلاتی عفریت کی سماجی قبولیت عام ہے اور یہ کسی غلط فہمی کی بنیاد پر نہیں۔

اسے ماننے والے دراصل بنیادی انسانیت اور انسان کش وحشت کے بیچ کسی ایسی تصوراتی خلا کی تلاش میں ہیں جہاں وہ کچھ کیے بغیر خود کو سماجی وقار، توازن اور اعتدال کا علمبردار سمجھ سکیں۔

ظاہر ہے، ایسا سمجھنا بکواس ہے۔ اور صد افسوس کہ یہ قاتلانہ بکواس ہے۔

ایسے لوگوں کا کہنا ہے کہ لبرل ایکسٹریمسٹس کو یہ کہنے کا چسکا لگ گیا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ یہ ایک ڈھونگ ہے، ایک دکھاوا، ایک بے جا خوف، توجہ حاصل کرنے کا ایک بہانہ یا شاید غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرنے کی کوئی ترکیب۔

یہ باتیں اس قدر ڈھٹائی سے کی جاتی ہیں کہ کبھی کبھی تو آپ کو خود بھی ان پر یقین آنے لگتا ہے۔ شاید اس لیے بھی کہ پاکستان میں فراڈ کرنا ہر وقت کے خوف سے بہرحال بہتر ہے لیکن حقیقت ایسا ہونے نہیں دیتی۔

کیونکہ جب آنکھ کھلتی ہے تو آپ کو مصطفٰی کی لاش نظر آتی ہے جو رضا رومی کا ڈرائیور تھا اور اپنے صاحب پر ہونے والے حملے سے جانبر نہ ہو سکا۔ اس کے جسم میں پیوست 12گولیوں میں سے ہر ایک کا نشانہ رضا رومی تھا۔

مصطفٰی دس افراد کا کفیل تھا۔ رضا کے بوڑھے ماں باپ اور چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، یعنی زندگی کا وہ جال جو ہمیں انسانیت بھی دیتا ہے، زندگی کی چاہت بھی اور اس سے کھلواڑ کا خوف بھی۔

میں مطمئن ہوں کہ میں نے تنہا لاہور میں ایک لمبی ڈرائیو پر جانے کا فیصلہ کیا۔ بہت سے جالے تھے دماغ میں جو اب نہیں۔

اسی بارے میں