شمالی وزیرستان میں سرچ آپریشن، کشیدگی برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکیورٹی فورسز کے حملوں سے ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے: ترجمان حافظ گل بہادر گروپ

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں کشیدگی برقرار ہے اور بیشتر مقامات پر کرفیو نافذ ہے جبکہ بعض علاقوں میں اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کیا ہے۔

گذشتہ روز جیٹ طیاروں کی بمباری کے بعد سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے مابین جھڑپ میں میجر سمیت پانچ سکیورٹی اہلکار اور11 شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔

فضائی حملے میں اہم کمانڈروں سمیت 60 شدت پسند ہلاک: فوج

شمالی وزیرستان:دھماکے میں نو سکیورٹی اہلکار ہلاک

جمعرات کی صبح سویرے میر علی کے قریب ماچس اور تیپئی کے مقامات پر فورسز نے سرچ آپریشن شروع کیا ہے۔

میر علی اور میران شاہ میں فوجی کارروائی کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

میران شاہ سے آمدہ اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز بمباری میں شدت پسندوں کے علاوہ ایک درجن کے قریب بچے اور خواتین بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

فوج کے محکمۂ تعلقات عامہ کی طرف سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق گذشتہ روز شدت پسندوں نے میر علی کے قریب سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا تھا جس میں میجر جلال ترین سمیت پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں 11 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

بدھ کو شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والے میجر جلال ترین کی بلوچستان کے علاقے قلعہ عبداللہ میں ان کے آبائی قبرستان میں تدفین کر دی گئی ہے۔

فوج کے محکمۂ تعلقات عامہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ میران شاہ کے قریب ماچس کے علاقے سے شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا جس کے بعد فورسز نے اس مقام پر جوابی کارروائی کی ہے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آج کہیں کوئی فضائی حملے نہیں کیے گئے۔

مقامی لوگوں کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی گئی بمباری میں ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ گذشتہ روز سکیورٹی اہلکاروں کے جانب سے کہا گیا تھا کہ 60 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں، جس کے بعد جھڑپ میں 11 مارے گئے تھے۔

ان حملوں کے بعد میران شاہ، میر علی اور دیگر علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ بیشتر لوگ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کی جانب جا رہے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے حافظ گل بہادرگروپ کے ترجمان نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی شوریٰ کے ایک اہم اجلاس میں ترجمان کے مطابق حکومت کے ساتھ امن معاہدے پر غور کیا گیا۔ ترجمان نے کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز کے حملوں سے ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں