لاہور میٹرو ٹرین منصوبہ، چین اور پاکستان میں معاہدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابتدائی اندازوں کے مطابق میٹرو ٹرین سروس پر تقریباً اڑھائی لاکھ شہری روزانہ سفر کرسکیں گے

پاکستان اور چین نے لاہور میٹرو ٹرین سروس منصوبے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس منصوبے پر ایک ارب 60 کروڑ ڈالر لاگت آئے گی اور ٹرین کے روٹ کی لمبائی 27.1 کلومیٹر ہوگی۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ترقیاتی اصلاحات سے متعلق چین کے قومی کمیشن کے چیئرمین نے اس سلسلے میں جمعرات کی صبح شنگھائی میں ایک معاہدے پر دستخط کیے۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ بھی دستخطوں کی تقریب میں موجود تھے۔

بعد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے لاکھوں مسافروں کو فائدہ پہنچے گا۔

معاہدے کے تحت لاہور کے علاقے ٹھوکرنیاز بیگ سے ڈیرہ گجراں تک تقریباً 27 کلومیڑ کا ٹریک بچھایا جائے گا، جس کا زیادہ تر حصہ، یعنی تقریباً 25 کلومیٹر کا حصہ فلائی اوورز پر بنایا جائے گا۔

یہ ٹرین ٹھوکر نیاز بیگ، ملتان روڈ، چوبرجی، مال روڈ، لکشمی چوک، ریلوے سٹیشن گڑھی شاہو، جی ٹی روڈ اور پاکستان منٹ سے ہوتی ہوئی ڈیرہ گجراں پر اختتام پذیرہوگی۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق تقریباً اڑھائی لاکھ شہری اس پر روزانہ سفر کرسکیں گے۔ یہ پاکستان کا پہلا میڑو ٹرین منصوبہ ہے۔ اس سے پہلے لاہور ہی میں ملک کی سب سے پہلی میٹرو بس چلائی گئی ہے۔

اس موقعے پر پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’یہ منصوبہ پاکستان کی تاریخ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس سے عوام کو سفر کی جدید اوربہتر سہولتیں میسر آئیں گی اور آمد و رفت کے نظام میں انقلاب آئے گا۔‘

اس سے پہلے گجومتہ سے شاہدرہ کے درمیان میڑو بس کا منصوبہ بھی لاہور میں کامیابی سے چل رہا ہے۔ بس کا روٹ بھی تقریباً 27 کلومیٹر ہی ہے۔ اور اس کے اردگرد 27 سٹاپ بنائے گئے ہیں۔ میٹرو بس اب کئی دوسرے شہروں میں بھی شروع کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں