پیمرا کے اعزازی ارکان کو اظہار وجوہ کے نوٹس

Image caption پیمرا کے پانچ ارکان نے جیو کے لائسنس معطل کر دیا تھا

وفاقی حکومت نے پاکستان کے سب سے بڑے نجی ٹی وی چینل جیو سے متعلق اجلاس بُلانے پر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کے تین اعزازی ارکان کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے ہیں۔

وفاقی حکومت کے مطابق اظہار وجوہ کے یہ نوٹس اتھارٹی کے اختیارات کا غلط استعمال کرنے اور اتھارٹی کی غلط انداز میں نمائندگی کرنے پر جاری کیے گئے ہیں۔

20 مئی کو پیمرا کے پانچ اعزازی ارکان نے اجلاس طلب کر کے جیو نیوز، جیو تیز اور جیو انٹرٹینمنٹ کے لائسنس معطل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

پیمرا کے ترجمان نے اس اجلاس سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس اجلاس کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

وفاقی حکومت کی طرف سے جن تین ارکان کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں اُن میں اسرار عباسی، میاں شمس اور فریحہ افتخار شامل ہیں۔

اسرار عباسی اُن تین افراد میں شامل ہیں جنھیں چیئرمین پیمرا کے اختیارات استعمال کرنے کا مجاز بنایا گیا تھا۔ دیگر دو افراد میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین اسماعیل شاہ اور سابق پولیس افسر پرویز راٹھور شامل ہیں۔

اسرار عباسی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے سپیکر بھی رہے ہیں اور اُن کا تعلق پاکستان کی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔

فریحہ افتخار نے بی بی سی کو بتایا کہ اُنھیں ابھی تک اتھارٹی یا حکومت کی طرف سے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ پیمرا کی اعزازی رکن ہیں اور کسی کی ملازم نہیں ہیں کہ اُنھیں نوٹس جاری کیا جائے۔

فریحہ پرویز کا کہنا تھا کہ اُن کی تعیناتی سابق صدر آصف علی زرداری نے کی تھی اور ایگزیکٹیو اتھارٹی کی جانب سے پیمرا کے اعزازی ارکان کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے اور کوئی بیوروکریٹ اُنھیں نوٹس جاری نہیں کر سکتا۔

اسی بارے میں