ربوہ میں فائرنگ سے احمدی ماہرِ امراضِ قلب ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption ڈاکٹر مہدی چند روز قبل پاکستانی ہسپتال میں انسانی خدمت کے جذبے سے خدمات کے لیے پہنچے تھے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے ربوہ میں ایک احمدی ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر مہدی علی قمر کو ربوہ کے قبرستان کے سامنے صبح پانچ بجے کے قریب دو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

ڈاکٹر مہدی علی کے ساتھ ان کا بیٹا اور اہلیہ بھی تھے جن کے سامنے یہ واقع پیش آیا۔

جماعتِ احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’احمدی برادری کے مرکز ربوہ میں ایسی ٹارگٹ کلنگ پہلی بار ہوئی ہے۔ ابھی تک کسی شخص یا گروہ نے اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔‘

’پاکستان میں شیعہ اور دیگر اقلیتیں شدت پسندوں کے نشانے پر‘

انھوں نے بتایا کہ پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر مہدی علی قبرستان اپنے بزرگوں کے لیے دعا کر رہے تھے جب موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے فائرنگ کی۔ ڈاکٹر علی موقع پر اپنے زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

’ڈاکٹر علی کی اہلیہ تو ابھی اس حال میں نہیں ہیں کہ تفصیلات بتا سکیں لیکن ابتدائی اطلاعات ہیں کہ جائے وقوعہ سے گولیوں کے 11 خول ملے ہیں۔‘

ڈاکٹر علی کے سوگواروں میں ان کی اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے ہیں، جن میں سے دو ان کے ساتھ پاکستان آئے تھے۔ ان کی عمر 50 سال تھی اور پاکستان سے ابتدائی تعلیم حاصل کر کے انھوں نے امریکہ سےسپیلائزیشن کی تھی اور امریکی شہریت اختیار کر لی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAAPK
Image caption طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کے خلاف شائع کیے جانے والے لٹریچر میں سے ایک پمفلٹ

سلیم الدین نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر مہدی علی قمر ربوہ کے طاہر انسٹی ٹیوٹ میں محدود مدت کے لیے خدمتِ خلق کے لیے دو روز قبل امریکہ سے پاکستان پہنچے تھے۔ ڈاکٹر مہدی کی کوئی دشمنی نہیں تھی، تاہم طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ کے خلاف پمفلٹ اور اشتہارات تقسیم کیے گئے ہیں جن میں ’وہاں علاج کروانے کو ایمان کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔‘

ترجمان جماعت احمدیہ پاکستان نے ڈاکٹر مہدی علی قمر کے قتل پر کہا کہ ’انسانیت کی بلاامتیاز خدمت کرنے والے ڈاکٹر کا بہیمانہ قتل انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ایک ڈاکٹر جو چند دن پہلے اپنے ہم وطنوں کی خدمت کے لیے آیا اسے قتل کر کے سفاک مجرموں نے انسانیت پر ظلم کیا ہے۔‘

سلیم الدین نے کہا کہ ’یہ افسوسناک واقعہ احمدیوں کے خلاف جاری منظم مہم کا حصہ ہے۔ اس سے قبل بھی احمدی ڈاکٹر اور پروفیشنل نشانہ بنائے جاتے رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’کھلے عام احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز لٹریچر شائع کر کے تقسیم کیا جاتا ہے جس میں احمدیوں کے قتل کی ترغیب دی جاتی ہے اور کوئی اس پر کارروائی نہیں کرتا۔ حالانکہ یہ لٹریچر شائع کرنے والے اپنا پتا اور فون نمبر تک دیتے ہیں مگر پھر بھی کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔‘

حال ہی میں جماعتِ احمدیہ نے اپنی سالانہ رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق گذشتہ سال احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے 7 افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی، جب کہ کئی پر توہین کے مقدمات چلائے گئے۔ کچھ روز قبل شیخوپورا میں توہینِ رسالت کے ایک احمدی ملزم کو حوالات میں قتل کر دیا گیا۔

اسی بارے میں