حامد میر پر حملے کے معاملے کا کیا ہوگا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنگ گروپ نے تو معافی مانگ لی ہے لیکن کالم نویس ارشاد عارف کا کہنا ہے کہ ابھی فریق ثانی (آئی ایس آئی ) کے ردِ عمل کا علم نہیں ہو سکا ہے

جیو ٹی وی نیٹ ورک اور جنگ گروپ نے آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ ظہیر الاسلام سے معافی تو مانگ لی لیکن بظاہر حامد میر پر قاتلانہ حملے کا معاملہ پس منظر میں جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

معروف کالم نویس اور دانشور وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ من حیث القوم ہم ادھر ادھر کی باتوں میں لگ جاتے ہیں اور اصل بات کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔

جنگ اور جیو گروپ نے آئی ایس آئی سے واضح طور پر معافی مانگنے میں سوا مہینے کا وقت لیا ہے۔ اس دوران ٹی وی چینل نے حامد میر پر قاتلانہ حملے پر اپنے موقف کا دفاع کیا تھا اور آئی ایس آئی کے صحافیوں کے ساتھ رکھے جانے والے سلوک پر سوالات اٹھائے تھے۔

اس سوا مہینے کے دوران جیو ٹی وی نیٹ ورک کے خلاف نہ صرف احتجاجی مظاہرے ہوئے بلکہ کیبل آپریٹرز نے جگہ جگہ اس کی نشریات بند کیں، اشتہاری کمپنیوں نے ادائیگیاں اور مزید اشتہار روک لیے۔ جنگ اخبار کی ترسیل میں بھی رکاوٹ ڈالی گئی اور جنگ جیو کے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بھی بننا پڑا۔

اب جیو گروپ نے بتایا ہے کہ اس ساری لڑائی کے دوران اس کا سوا چھ ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

اس عرصے میں جب تک معاملہ آئی ایس آئی اور جیو کے درمیان تھا جنگ جیو ڈٹا رہا لیکن جیسے ہی اس پر ایک مارننگ شو میں مذہبی شخصیات کی توہین کا الزام لگا تو جیو گروپ نے معافی مانگنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔

گذشتہ ہفتے پورے ایک صفحے کا معذرت نامہ جنگ اخبار میں شائع ہوا لیکن اس کے باجود جنگ جیو گروپ کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کے مقدمات درج ہوئے۔

اس سارے عرصے میں اس کے کارکن تجزیہ نگار کہتے رہے کہ کسی کو حب الوطنی یا غداری کے سرٹیفیکٹ جاری کرنے کا حق نہیں ہے۔

جنگ جیو کے حامی کارکن اس لڑائی کو آزادی صحافت کی جنگ قرار دیتے رہے۔اب سوا مہینے کے بعد جنگ جیو گروپ کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ حامد میر پر حملے کے فوری بعد ان کی نشریات حد سے متجاوز، پریشان کن اور جذباتی تھیں۔

جنگ جیو گروپ نے اس لڑائی کو چھوڑنے کے لیے معافی نامے کا قدم اٹھایا تو یہ بھی واضح کیا ہے کہ آئی ایس آئی پر الزامات خود حامد میر نے لگائے تھے اور بعد میں انہی کے گھرانے کےایک فرد (بھائی عامر میر) نے اسے دہرایا۔

تجزیہ نگار وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ ’معافی نامے کے اس عمل سے پہلے کہیں نہ کہیں کوئی انڈرسٹینڈنگ ضرور ہوئی ہوگی لیکن سوال یہ ہے کہ اب حامد میر کے کیس کا کیا ہوگا جسے چھ گولیاں لگی تھیں اور جو آج بھی موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔‘

تحریک انصاف کے رہنما میاں محمود نے کہا کہ وہ اس معافی نامے کو مسترد کرتے ہیں ان کے بقول یہ کوئی اصول نہیں ہے کہ جرم کرکے معافی مانگ لو اور سزا سے بچ جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ جس نے جرم کیا ہے اسے سزا ملے گی تو باقی چینلز کو بھی سبق حاصل ہوگا اور وہ اپنے دائرہ کار میں رہیں گے۔

جنگ گروپ کے ایک انتظامی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’ادارے کے مالک میرشکیل الرحمان اس لڑائی میں فریق نہیں بننا چاہتے اور معاملہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔‘

جنگ اخبار کے سینیئر کالم نویس ارشاد احمد عارف نے کہا کہ ’یہ اداروں کی انا کی جنگ نہیں تھی اور یہ تاثر غلط ہے کہ ایک ادارے کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ اب حکومت کا فرض ہے کہ وہ کردار ادا کرے اور انتشار ختم کرے۔ تجزیہ نگار یاسر پیرزادہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے ’اس ساری لڑائی کا سبق یہ ہے کہ صحافت کے لیے کوئی ضابطہ اخلاق اور قانون ہونا چاہیے۔‘

جنگ گروپ نے اپنے معافی نامہ میں بھی خود احتسابی کاذکر کیا ہے لیکن یاسر پیرزادہ کا کہنا ہے کہ‘ اگر خود احتسابی کا نظام اتنا ہی موثر ہوتا تو حامد میر حملے کے فوری بعد کی جانے والی غلطی سے بچا جاسکتا تھا۔’

انھوں نے کہا کہ’ کوئی بھی شخص یا ادارے اپنے کیس میں مدعی استغاثہ اور جج نہیں ہوسکتا اور اگر ہو بھی جائے تو اپنے خلاف فیصلہ نہیں دے سکتا۔‘

جنگ گروپ نے تو لکھ کر اور شائع کر کے معافی مانگ لی ہے لیکن کالم نویس ارشاد عارف کا کہنا ہے کہ ابھی فریق ثانی (آئی ایس آئی ) کے ردِ عمل کا علم نہیں ہو سکا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ شاید ابھی جیو ٹی وی چینل اور جنگ گروپ کے آئندہ کے رویے کو دیکھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں