نواز مودی ملاقات:’چھوٹا قدم لیکن انتہائی اہم پیش رفت‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption میڈیا کو بہت کوشش کے اس دورے میں کوئی خامی ایسی نہیں ملی جسے وہ بڑا ایشو بنا سکے

پاکستان اور ہندوستان کے رہنما جب بھی ملتے ہیں تو جیسے دونوں ممالک کے بند دروازے ایک دوسرے کے لیے کھل جاتے ہیں۔

اکثر ٹی وی چینل جو معمول کے دنوں میں ایک دوسرے کے بارے میں بات کرنے سے کترانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں جیسے کہ گھل مل جاتے ہیں۔

ٹی وی چینلز گھنٹوں طویل مشترکہ پروگرام منعقد کرتے ہیں، بحث مباحثے ہوتے ہیں جن میں دونوں طرف سے گرما گرم بحث ہوتی ہے۔

لیکن یہ ’بخار‘ رہنماؤں کی اپنے اپنے ممالک کو واپسی کے ساتھ ہی اتر جاتا ہے، دروازے بند ہو جاتے ہیں اور تاثرات اور اُمیدوں کی ٹھنڈی گرم ہوائیں آنا جانا رک جاتی ہیں۔

پھر پاکستانی چینلز کے لیے جیسے ہمسایہ ملک بھارت اور وہاں کے چینلز کے لیے پاکستان جیسے وجود ہی نہیں رکھتے۔

اگر کچھ باقی رہتا ہے تو پاکستانی میڈیا پر بالی وڈ اور بھارتی میڈیا پر حافظ سعید، داؤد ابراہیم یا بھارت مخالف ’آتنک واد‘ ہی رہ جاتا ہے۔

اس مرتبہ بھی یہی کچھ ہوا۔ پاکستانی میڈیا پر دو روز دہلی کی تقریبات اور ملاقاتیں مکمل طور پر چھائیں رہیں۔ ٹی وی پر لائیو دکھائے جانے والے پل پل کو یہاں کے ماہرین تقریباً ہر زاویے سے پرکھتے رہے۔

دونوں رہنماؤں کی باڈی لینگویج کیسی تھی، مودی نواز شریف کے استقبال کے لیے تو اپنے دفتر سے باہر آئے لیکن ملاقات کے خاتمے پر چھوڑنے کیوں نہیں آئے، کیا ملاقات خوشگوار نہیں تھی جیسے سوالات ماہرین سے پوچھ کر انہیں مشکل میں ڈالتے رہے۔

دونوں ممالک کے لیے بہتر ہے کہ میڈیا ٹو میڈیا گفتگو اہم ملاقاتوں تک محدود نہ رہے بلکہ ایک مسلسل عمل بن جائے۔

نئے بھارتی وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب کو وہاں کی وزارت خارجہ نے علاقے میں جمہوریت کا جشن قرار دیا دونوں ممالک کے میڈیا کے لیے پرانے سوالوں کے نئے جواب تلاش کرنے کی ایک اور ناکام کوشش ثابت ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دونوں رہنما دشمنوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کے اشارے دے رہے ہیں

اصل جواب تو نواز شریف اور نریندر مودی بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن لگتا ہے کہ پہلی ملاقات کے بعد کوئی بڑا ’بریک تھرو‘ نہیں ہوا لیکن نواز شریف کا دورۂ ہندوستان اور نریندر مودی سے ملاقات ایک چھوٹا قدم لیکن انتہائی اہم پیش رفت ہے۔

میڈیا کو بہت کوشش کے اس دورے میں کوئی خامی ایسی نہیں ملی جسے وہ بڑا ایشو بنا سکے۔

خیال یہی ہے کہ دونوں ممالک کے حکام نے صورتحال کو انتہائی احتیاط کے ساتھ نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف نے میڈیا سے گفتگو میں سوالات نہ لیے اور بھارتی وزارت خارجہ کی بریفنگ میں ملا محمد عمر کی کوئٹہ میں موجودگی سے متعلق سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔

سینیئر صحافی عباس ناصر نے نواز شریف کی میڈیا کو مختصر بیان کو ایک ٹوئٹ میں ’میچیور اور سٹیسمین لائیک‘ قرار دیا ہے۔

نواز شریف کی دہلی روانگی سے قبل ہی جو بات روز روشن کی طرح عیاں تھی وہ یہ کہ دونوں ممالک کے درمیان دو تہائی اکثریتی حکومتیں ہی مسائل کے حل کے لیے ’بولڈ‘ قدم اٹھا سکتی ہیں اور اسی کی دونوں ممالک کے شہری آنے والے دنوں میں توقع کر سکتے ہیں۔

لیکن پاکستانی ریاستی پالیسی کے قریب سمجھے جانے والے اردو کے اخبار ’نوائے وقت‘ کے اداریے میں نواز شریف کے لیے واضح تنبیہ موجود تھی۔

’وزیراعظم کی کوئی غلطی ان کی سیاسی رخصت کا پروانہ بھی بن سکتی ہے‘ کے عنوان سے اس اداریے میں لکھا ہے کہ نواز شریف کو مسئلہ کشمیر پر کسی بھی سودے بازی سے باز رہنا ہوگا۔

اسی بارے میں