جیو نیوز کے مستقبل کا فیصلہ 28 مئی کو

پیمرا تصویر کے کاپی رائٹ PEMRA
Image caption عدالت نے کمال الدین ٹیپو کا بطور پیمرا کے رکن کے جاری کیا جانے والہ نوٹیفکیشن بھی معطل کردیا ہے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، پیمرا کو 27 مئی کو بُلائے جانے والے اجلاس کے انعقاد سے روک دیا ہے جبکہ پیمرا کے اعزازی ممبران 28 کو اپنے جلاس میں جیو نیوز کے مستقبل کا طے کریں گے۔

پیمرا کے اعزازی مبمر اسرار عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ اعزازی ممبران کی طرف سے 28 مئی کو بُلایا جانے والا اجلاس منعقد ہوگا جس میں جیو نیوز کے لائسنس کے مستقبل کے بارے میں لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیمرا کے ان نوٹوسوں کو بھی معطل کر دیا ہے جو پیمرا ہی کے تین اعزازی ممبروں کو جاری کیے گئے تھے۔

پیمرا نے اسرار عباسی، میاں شمس اور فریحہ افتخار کو نجی ٹی وی چینل جیو سے متعلق اجلاس بُلانے پر 22 مئی کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے تھے جن کے خلاف مذکورہ ارکان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

جسٹس نورالحق قریشی کی سربراہی میں ایک رکنی بینچ نے پیر کو اس درخواست کی سماعت کی۔

اسرار عباسی نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا کے حکام نے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اُنھیں اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے۔

اُنھوں نے کہا کہ 20 مئی کو جیو کے معاملے پر پیمرا کے اعزازی ممبران کی طرف سے بلایا جانے والے اجلاس قانونی تھا اور پیمرا کے قوانین کے مطابق چار سے زائد ممبران پیمرا کا اجلاس طلب کرسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس اجلاس میں پیمرا کے اعزازی ارکان نے صحافی حامد میر پر حملے کے بعد آئی ایس آئی کے سربراہ پر الزام عائد کرنے کے سلسلے میں جیو نیوز، جیو تیز اور جیو انٹرٹینمنٹ کے لائسنس معطل کرنے کا حکم دیا تھا جب کہ پیمرا نے اس اجلاس کے بارے میں بتایا تھا کہ اس کی کوئی قانونی حثیت نہیں ہے۔

اسرار عباسی نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ پیمرا حکام کی طرف سے 27 مئی کو بُلایا جانے والے اجلاس کے بارے میں بھی اُنھیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اس کے علاوہ درخواست میں پولیس گروپ کے افسر کمال الدین ٹیپو کو پیمرا کا ایگزیکٹیو رکن بنانے پر بھی اعتراض اُٹھایا گیا تھا۔

عدالت نے درخواست گزار کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے کمال الدین ٹیپو کا بطور پیمرا کے رکن کے جاری کیا جانے والہ نوٹیفکیشن بھی معطل کردیا ہے۔

اسی بارے میں