مودی کو دہشت گردی پر تشویش، نواز کا محاذ آرائی چھوڑنے پر اصرار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ۔۔۔نریندر مودی نے نواز شریف کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کیا تھا

بھارت کے نومنتخب وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے منگل کو ہونے والی ملاقات میں کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دینے کے وعدے پر قائم رہنا ہوگا اور سنہ 2008 میں ممبئی حملوں کی تحقیقات کو بھی تیز کرنا ہوگا۔

دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات کے بعد بھارت کی سیکریٹری خارجہ سجاتا سنگھ نے کہا کہ ’وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات میں وزیر اعظم نریندر مودی نے دہشت گردی کے حوالے سے بھارت کی تشویش کا اظہار کیا۔‘

اعلانِ لاہور سے مودی کی حلف برداری تک

’مودی کو ماں کے ساتھ دیکھ کر نواز شریف کی ماں جذباتی‘

’نریندر مودی سے ملاقات سے ایک موقع ہے‘

سجاتا سنگھ نے مزید کہا کہ وزیراعظم نواز شریف سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو اپنی سرزمین اور وہ سرزمین جو اس کے زیر اثر ہے اسے دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کے اپنے وعدے پر قائم رہنا ہو گا۔

وزیراعظم نواز شریف نے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں میں عوامی مینڈیٹ لے کر منتخب ہونے والے رہنما تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر سکتے ہیں۔

بھارت کے اپنے دورے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ دونوں ملکوں کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔

انھوں نے کہا کہ نریندو مودی اور وہ معاشی ترقی چاہتے ہیں جو خطے میں امن اور استحکام کے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتی۔

وزیراعظم نواز شریف نے مزید کہا کہ الزامات اور جوابی الزامات عائد کیے جانے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان تمام مسائل کو سنجیدگی اور تعاون کے جذبے سے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ انھوں نے وزیراعظم مودی کو سنہ 1999 میں بی جے پی کے سابق وزیراعظم اٹل بھاری واجپائی کو لاہور آنے کی دعوت کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی ڈور کو وہیں سے جوڑنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے لوگوں کی خاطر انھیں بداعتمادی اور غلط فہمیوں کو دور کرنا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دونوں ملکوں کے لوگوں کی خاطر انھیں بداعتمادی اور غلط فہمیوں کو دور کرنا ہوگا: نواز شریف

بھارتی کی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے سیکریٹری خارجہ رابطے میں رہیں گے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے مواقعے تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

بھارت اور پاکستان کے وزراء اعظموں کی ملاقات میں باہمی تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اس سے پہلے دارالحکومت دہلی کے حیدر آباد ہاؤس میں وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف کے درمیان بات چیت ہوئی۔

یہ بات چیت مقررہ 35 منٹ سے تجاوز کرتے ہوئے پچاس منٹ سے زیادہ دیر تک چلی۔

بات چیت میں سرتاج عزیز بھی شریک ہوئے۔ بھارت کی جانب سے وزیر خارجہ سشما سوراج اور خارجہ سیکریٹری سجاتا سنگھ شریک ہوئیں۔ بات چیت کے بعد کوئی بیان نہیں جاری کیا گیا ہے ۔

وزیراعظم نواز شریف نے گذشتہ سال اقتدار میں آنے کے فوراً بعد بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا عندیہ دیا تھا۔

یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے کیے جانے والے جامع مذاکرات کا سلسلہ سنہ 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد سے رکا ہوا ہے۔

اسی بارے میں