’طالبان میں تقسیم حکومت کے لیے مشکلات کا پیش خیمہ‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان میں خان سید سجنا گروپ کی علیحدگی سے ماہرین کے مطابق نہ صرف تنظیم پر بڑی حد تک اثر پڑے گا بلکہ اس سے حکومت کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

اگرچہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان میں ہر قبائلی علاقے اور شہری علاقوں سے نمائندگی بتائی جاتی ہے لیکن اس تنظیم میں محسود قبائلیوں کو اس لیے زیادہ اہمیت حاصل ہے کیونکہ انھیں اس تنظیم کا بانی قبیلہ سمجھا جاتا ہے۔

بیت اللہ محسود اس تنظیم کے بانی امیر تھے اور ان کی قیادت میں سب متحد تھے، لیکن ماہرین کے مطابق بیت اللہ محسود کی ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تنظیم میں ہلچل شروع ہوگئی تھی۔ اس کے بعد حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمان نے حالات کو قابو میں رکھا اور بظاہر تنظیم کے اندر اتحاد نظر آرہا تھا۔

معروف تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد کا کہنا ہے کہ تنظیم کے اندر قیادت کی حالیہ تبدیلی سے اختلاف کھل کر سامنے آگئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں لگتا ہے کہ اس میں مذید گروہ بنیں گے اور یہ پھر حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

برگیڈیئر ریٹائرڈ سعد نے کہا کہ وزیرستان میں بڑا گروہ محسود قبیلے کا ہے اور ان کا ایک دھڑا خان سید سجنا محسود کے ساتھ ہے لیکن دوسرا گروہ شہریار محسود کا ہے جو تحریک طالبان کی مرکزی قیادت کے ساتھ ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ خان سید سجنا جن کا جہادی نام خالد محسود ہے ان کا دھڑا علاقے میں زیادہ اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ خان سید سجنا گروپ نے محسود قبیلے کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس وقت بڑی تعداد میں محسود قبیلے کے لوگ اپنے علاقوں سے باہر متاثرین کی زندگی گزار رہے ہیں ۔

جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہ نجات کے بعد پانچ لاکھ سے زیادہ قبائلی اپنے علاقے سے بے گھر ہوئے ہیں۔ مقامی صحافی سیلاب محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ تحریک کے اندر محسود قبیلے کے اختلافات سے عام قبائلیوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا ۔

انھوں نے کہا کہ خان سید سجنا گروپ کی علیحدگی سے تنظیم کی سرگرمیاں ضرور متاثر ہوں گی اور ایسا لگتا ہے کہ یہ اختلافات اب مذید پھیلیں گے ۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیرستان کو طالبان کا مرکز سمجھا جاتا ہے لیکن اس میں آباد وزیر قبیلے سے تعلق رکھنے والے طالبان کی پالیسیاں مختلف رہی ہیں اور وہ حکومت کے زیادہ قریب نظر آتے ہیں۔

شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے تجزیہ کار پروفیسر خادم حسین کہتے ہیں کہ یہ اختیارات کی کشمکش ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی صرف دو دھڑوں کے درمیان ہے اور یہ محدود حد تک تھی اس لیے اس کا تنظیم پر کوئی زیادہ اثر نہیں ہوگا۔

تحریک میں ایک دھڑے کی علیحدگی کے بعد اب حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات اور حکومت کی پالیسی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کیا مذاکرات کا آغاز پھر سے ہوگا اور حکومت اگر مذاکرات شروع کرتی ہے تو اس کی پالیسی کیا ہوگی، اس بارے میں صورتحال واضح نہیں ہے ۔

اسی بارے میں