ای سی ایل سے مشرف کا نام نکالنے پر فیصلہ 31 مئی کو

جنرل مشرف فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنرل پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم نے درخواست میں گزارش کی تھی کہ جنرل مشرف کا نام ای سی ایل سے خارج کیا جائے

سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر سے نکالنے کی درخواست پر اپنا فیصلہ 31 مئی تک محفوظ کر لیا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعرات کو ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی۔

سماعت میں اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل مکمل کیے۔

اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے درخواست پر 31 مئی تک فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سماعت کے بعد سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کے موکل کی ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہے جس کا اعلاج پاکستان میں نہیں ہو سکتا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس میڈیکل رپورٹ کو استغاثہ نے عدالت میں چیلنج نہیں کیا۔

واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس مظہر علی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کے بارے میں دائر درخواست پر وفاقی حکومت سے موقف طلب کیا تھا۔

حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف عدالتوں میں پیشیوں سے بچنے کے لیے بیرون ملک فرار ہونا چاہتے ہیں، اس لیے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج نہ کیا جائے۔

وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف پر بےنظیر بھٹو قتل کیس، نواب اکبر بگٹی کیس، لال مسجد اور آرٹیکل 6 کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں، وہ ان مقدمات میں عدالتوں کے روبرو پیشی سے فرار چاہتے ہیں۔

وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کی درخواست بدنیتی پر مبنی ہے، اگر ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کیا گیا تو وہ پھر وطن واپس نہیں آئیں گے۔

واضح رہے کہ پانچ اپریل سنہ 2013 کو ملک کی وزارتِ داخلہ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل پر اس لیے ڈالا تھا کہ وہ اپنے اوپر دائر مقدمات کا عدالتوں میں سامنا کریں۔

اسی بارے میں