لاہور میں خاتون کے قتل کی رپورٹ آج شام تک پیش کریں: وزیر اعظم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’یہ اندوہناک جرم ناقابل برداشت ہے، اور خاص طور پر پولیس کی موجودگی میں حاملہ خاتون کا بہیمانہ قتل کسی صورت قبول نہیں ہے‘

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پسند کی شادی کرنے پر خاتون کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے آج شام تک رپورٹ طلب کر لی ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو ہدایت کی ہے کہ اس بہیمانہ قتل کے مجرموں کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ یہ اندوہناک جرم ناقابل برداشت ہے، اور خاص طور پر پولیس کی موجودگی میں حاملہ خاتون کا بہیمانہ قتل کسی صورت قبول نہیں ہے۔

’کپڑے اتار کر چلاتے رہے لیکن پولیس نے مدد نہیں کی‘

لاہور میں پسند کی شادی کرنے پر خاتون قتل

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے ہولناک واقعات

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے باہر منگل کو 30 سالہ فرزانہ کو اس کے گھر والوں نے پسند کی شادی کرنے پر اینٹوں کے وار کر کے قتل کر دیا تھا۔

نامہ نگاروں کے کہنا ہے کہ پاکستان میں سالانہ بیسیوں خواتین کو ’غیرت کے نام پر قتل‘ کیا جاتا ہے۔

اس واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ ناوی پیلے نے کہا کہ اس واقعے کا سن کر ’شدید دھچکا‘ لگا اور انھوں نے پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کے حوالے سے ’جلد اور سخت اقدامات کرے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ میں غیرت کے نام پر قتل کا فقرہ استعمال نہیں کرنا چاہتی۔ اس طریقے سے کسی خاتون قتل کرنے میں کوئی عزت نہیں ہے۔‘

فرزانہ کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ سے تھا اور اس نے کچھ عرصہ پہلے گھر سے بھاگ کر محمد اقبال سے پسند کی شادی کی تھی۔

وہ اپنے میاں اقبال کے ساتھ منگل کی صبح لاہور ہائی کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے لیے آ رہی تھی کہ ججز گیٹ کے پاس پہلے سے ہی ان کے بھائی والد اور ان کا ماموں زاد جو کہ فرزانہ کا سابقہ منگیتر بھی تھا گھات لگائے بیٹھے تھے۔

جونہی فرزانہ احاطہ عدالت میں داخل ہونے لگیں یہ لوگ انھیں گھسیٹ کر دوسری طرف لے گئے اور چند ہی لمحوں میں ان کے سر پر اینٹیں مار مار کر انھیں قتل کر دیا۔

ایس پی سول لائنز عمر چیمہ کے مطابق آس پاس موجود پولیس اہلکار فرازانہ کو چھڑوانے کے لیے دوڑے بھی لیکن چار حملہ آوروں کے علاوہ بھی کچھ لوگ ان کے ساتھ تھے جن کے پاس اسلحہ بھی تھا، انھوں نے پولیس سے مزاحمت کی اور جتنی دیر میں پولیس اہلکار نے ان سے پستول چھینا فرزانہ مر چکی تھیں۔

پولیس نے فرزانہ کے والد عظیم کو گرفتار کر لیا جبکہ ان کے باقی رشتہ دار فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

اسی بارے میں