سندھ میں ہندوؤں کے تین مندروں میں توڑ پھوڑ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ رمیش کمار کے مطابق ملک سے ہر سال پانچ ہزار ہندو بیرون ملک نقل مکانی کر جاتے ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ میں ایک بار پھر نامعلوم افراد نے ہندو برادری کے تین مندروں کو نقصان پہنچایا ہے۔

مندروں میں مورتیوں کو ہتھوڑوں سے توڑ کر بے حرمتی کی گئی ہے۔

یہ واقعہ بدھ کی صبح ضلع میرپور خاص کے شہر کوٹ غلام محمد کے قریب واقع گاؤں باغات مالھی میں پیش آیا، جہاں نامعلوم افراد نے شیومندر، کھیترپال اور خوشحال داس مندر میں داخل ہوکر مورتیاں توڑ دیں۔

یہ مندر ہیمراج مالھی کی زمین پر واقع ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم افراد تالے توڑ کر شیو مندر میں داخل ہوئے اور مورتیوں کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد افراد گاؤں کی دوسری سمت میں موجود خوشحال داس مندر میں داخل ہوئے اور توڑ پھوڑ کی۔

انھوں نے بتایا کہ واقعے کا علم صبح اس وقت ہوا جب ملازم مندر کھولنے گئے تو دیکھا دروازے کا تالا اور مورتیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔

خوشحال داس مندر میں دس جون کو سالانہ میلے کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے، جس کی تیاریاں جاری تھیں۔

ہیمراج مالھی کے مطابق واقعے کی نوعیت سے لگتا ہے کہ حملہ آور مندر کو نقصان پہنچانے آئے تھے، چوری کی نیت سے نہیں، کیونکہ انھوں نے وہاں سے کوئی سامان چوری نہیں کیا۔

ملزمان کا پتہ لگانے کے لیے پولیس نے کھوجیوں اور سراغ رساں کتوں کی بھی مدد حاصل کی، جس کی بنیاد پر مندر کی دیکھ بھال پر مامور کولھی برادری کے چھ لوگوں کو حراست میں لیا گیا جن میں سے بعد میں پانچ کو رہا کر دیا گیا۔

صوبائی وزیر برائے اقلیتی امورگیانچند ایسرانی کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں لیکن ابھی تک ایسی کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں جس سے میڈیا کو آگاہ کیا جا سکے تاہم پولیس نے کچھ لوگوں کو شک کی بنیاد پر حراست میں بھی لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان کے صوبہ سندھ میں گذشتہ کچھ عرصے سے اقلیتوں کے مذہبی مقامات پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے

گیانچند ایسرانی نے ایک بار پھر صوبائی حکومت کا موقف دہرایا کہ یہ واقعات پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف سازش ہیں۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر چاہتے ہیں کہ ہندو اور مسلم برادری میں نفرت پھلائیں اور حکومت کو بدنام کریں لیکن یہ عناصر کون ہیں گیانچند ایسرانی بیان نہیں کر سکے۔

کوٹ غلام محمد سے کچھ ماہ پہلے لاڑکانہ میں دہرم شالہ اور حیدرآباد میں مندر پر حملہ کیا گیا، لاڑکانہ واقعے پر بھی ایک کمیٹی بنائی گئی جس کی رپورٹ تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے۔ صوبائی وزیر گیانچند کا کہنا ہے کہ وہ اس کی تہہ تک پہنچ نہیں سکے ہیں۔

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال مالھی بھی میرپور خاص ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت ہر واقعے کو اپنے کے خلاف سازش قرار دیکر خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ اخبارات میں روزانہ کسی اقلیتی شہری کے اغوا، جبری مذہب کی تبدیلی یا عبادت گاہ پر حملے کی خبر موجود ہوتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ صوبائی حکومت اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

لال مالھی کا کہنا تھا کہ سندھ میں ہندو مسلم صدیوں سے ایک ساتھ رہتے ہوئے آ رہے ہیں لیکن اب جہاں ہندو آبادی اکثریت میں ہے وہاں اس قسم کے مسائل پیدا کیے جا رہے ہیں۔

مندروں میں گرو گرنتھ کی بے حرمتی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکھ برادری نے گذشتہ دنوں اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے احتجاج بھی کیا تھا

وزیراعظم میاں نواز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ سندھ میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کی تحقیقات کی جائے۔

اس سے پہلے پاکستان سکھ کونسل نے حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ اگر ان کی مقدس کتاب گرو گرنتھ کی بے حرمتی کرنے والے ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا تو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال ماہ مارچ میں صوبہ سندھ کےعلاقے پنو عاقل اور شکارپور میں گروگرنتھ کی مبینہ بے حرمتی کے واقعات پیش آئے تھے، جس کے بعد رواں سال شکارپور کے علاقے مدئجی اور لیاری کے بھاگ ناڑی مندر میں گرو گرنتھ صاحب کے جلنے کا واقعہ پیش آیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ تمام واقعات کسی گردوارے میں نہیں بلکہ مندروں میں پیش آئے ہیں جہاں ہندو اور سکھ برادری مشترکہ طور جاتی ہے۔

پاکستان سکھ کونسل کے رہنما سردار رمیش لال کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم نہیں ہے کہ ان واقعات میں کون ملوث ہیں اور ملزمان کو تلاش کرنا پولیس کا کام ہے۔

’ہم گرو گرنتھ صاحب کو زندہ گرو تصور کرتے ہیں ہماری یہ درخواست ہے کہ اگر کوئی اس کو رکھ نہیں سکتا یا اس کا تحفظ نہیں کر سکتا تو ہمیں واپس دے دی جائے۔ مندر کو مندر رہنے دیں ہم کب کہہ رہے ہیں کہ اس کو گردوارہ بنا دیں۔ ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے پوری دنیا میں سکھ برادری جہاں رہتی ہے پرامن طریقے سے رہتی ہے۔‘

دوسری جانب صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور گیانچند ایسرانی ہندو اور سکھ برادری میں اختلافات کو مسترد کرتے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ برادری کی سطح پر ایسا نہیں ہے۔ شکارپور میں جو واقعہ پیش آیا وہ ایک انفرادی فعل ہو سکتا ہے، گرو گرنتھ ان کے لیے بھی مقدس کتاب ہے۔

اسی بارے میں