’شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کی ہدایت‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 2008 سے حافظ گل بہادر گروپ اور حکومت کے درمیان وزیرستان کی سطح پر ایک امن معاہدہ موجود ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسند حافظ گل بہادر گروپ نے ایک پمفلٹ کے ذریعے مقامی لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے علاقے میں آپریشن کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس پمفلٹ میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ دس جون سے پہلے پہلے علاقے سے نقل مکانی کر کے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں۔

خیال رہے کہ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ دنوں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا فیصلہ نہیں کیا گیا اور حالیہ فوجی کارروائیاں اس حکمت عملی کا حصہ ہیں جس میں شدت پسندوں کے حملے کی صورت میں موثر جواب دیا جاتا ہے۔

شوریٰ مجاہدین شمالی وزیرستان کی طرف سے جمعے کو ذرائع ابلاغ کو بھیجے گئے اس پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے کافی عرصہ سے ان کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ غیر اعلانیہ طور پر توڑا ہوا ہے تاہم اس کے باوجود وہ علاقے کے عوام کی خاطر اسے برداشت کرتے رہے۔

پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اصل ہدف کی بجائے معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے جا رہی ہے۔

پمفلٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معتبر معلومات کے مطابق حکومت نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ کر لیا ہے لہذٰا مقامی لوگوں کو چاہیے کہ وہ دس جون سے پہلے پہلے اپنے اہل و عیال کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کر دیں کیونکہ جنگ شروع ہو جانے کی صورت میں نقل مکانی نہیں ہو سکتی۔

Image caption فوج نے گذشتہ دنوں شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائی میں درجنوں شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا

پمفلٹ میں مقامی باشندوں کو کہا گیا ہےکہ وہ حکومت کی طرف سے بنائے گئے متاثرین کیپموں میں ہرگز نہ جائیں بل کہ ایسے مقامات کی طرف جائیں جہاں سے افغانستان کی جانب نقل مکانی کرنا آسان ہو۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دس جون تک جو کوئی امن و اصلاح کی خیر لا سکے ضرور لائے بصورت دیگر ان کی طرف سے حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔

پمفلٹ میں لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فوجی افسروں اور اداروں کے ساتھ میل ملاپ ہرگز نہ رکھیں اور دس جون کے بعد ہر قسم کے حکومتی قلعوں اور تحصلیوں کی طرف جانا ممنوع ہوگا جب کہ خلاف ورزی کی صورت میں سزا دی جائے گی۔

خیال رہے کہ حافظ گل بہادر گروپ کے طالبان کی طرف سے یہ پمفلٹ ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب چند دن قبل ہی شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے تین روز تک بھرپور کارروائی کی گئی تھی جس میں جیٹ طیاروں اور جنگی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی وزیرستان میں کشیدگی کی وجہ سے ہزاروں افراد علاقے سے نقل مکانی کر چکے ہیں

اس کارروائی میں حکام کے مطابق سو کے قریب عسکریت پسند مارے گئے تھے تاہم مقامی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ سو کے لک بھگ بتائی تھی۔ مرنے والوں میں عام شہری بھی بتائے جاتے ہیں جب کہ چند سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔اس آپریشن کے دوران کئی مقامات اور دکانیں بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھیں جب کہ ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے تھے۔

اس آپریشن میں عام شہریوں کے مارے جانے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 2008 میں حافظ گل بہادر گروپ اور حکومت کے درمیان وزیرستان کی سطح پر ایک امن معاہدہ ہوا تھا جو بدستور برقرار سمجھا جاتاہے کیون کہ ابھی تک فریقین میں کسی کی طرف سے واضح طور پر امن معاہدہ توڑنے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

تاہم حافظ گل بہادر گروپ کی طرف سے جاری حالیہ بیان سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ اگر حکومت نے شمالی وزیرستان میں کوئی باقاعدہ کارروائی کا آغاز کیا تو ایسی صورت میں امن ٹوٹنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں