اجلاس میں فاٹا کی سکیورٹی صورتحال پر غور

Image caption تحریکِ طالبان پاکستان کہہ چکی ہے کہ حکومت ایک طرف مذاکرات اور دوسری جانب جنگ اور دھمکی کی سیاست کر رہی ہے

پاکستان کے وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف کی زیرِصدارت اجلاس میں فاٹا اور بلوچستان کی سکیورٹی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔

فاٹا میں سکیورٹی صورتِ حال پر غور کرنے کا کے لیے یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد کیا گیا جب ملک کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسند حافظ گل بہادر گروپ نے ایک پمفلٹ کے ذریعے مقامی لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے علاقے میں آپریشن کا فیصلہ کر لیا ہے۔

پمفلٹ میں شمالی وزیرِ ستان کے مقامی لوگوں کو دس جون سے پہلے پہلے علاقے سے نقل مکانی کر کے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی تلقین کی گئی ہے۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق اسلام آباد میں جمعے کو ہونے والے اس اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان، چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف، چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام اور وزیراعظم کے سیکریٹری جاوید اسلم نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ دنوں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا فیصلہ نہیں کیا گیا اور حالیہ فوجی کارروائیاں اس حکمت عملی کا حصہ ہیں جس میں شدت پسندوں کے حملے کی صورت میں موثر جواب دیا جاتا ہے۔

جمعے کو ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیرِ داخلہ نے وفاقی و صوبائی سطح پر ریپڈ رسپانس فورسز کو عمل میں لانے کے بارے میں بریفنگ دی۔

ادھر حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے لیے رابطوں یا کسی پیش رفت کی ایک طویل عرصے سے کوئی اطلاع نہیں ہے اور یہ بھی واضح نہیں کہ بات چیت کس وجہ سے تعطل کا شکار ہے۔

سات ماہ کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود حکومت اور طالبان کے درمیان ابتدائی رابطوں کے علاوہ بات چیت کے عمل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی حتیٰ کہ فریقین مستقل جنگ بندی پر بھی متفق نہیں ہو سکے ہیں۔

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کہہ چکی ہے کہ حکومت ایک طرف مذاکرات اور دوسری جانب جنگ اور دھمکی کی سیاست کر رہی ہے اور اس صورتحال میں بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات ممکن نہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں نواز شریف کی حکومت نے ایک کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس کے بعد کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسی بارے میں