ملتان: جنگ کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر حملے میں زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ The News
Image caption جنگ گروپ کے انگریزی اخبار دی نیوز کی ویب سائٹ پر ظفر آہیر پر ہونے والے حملے کی شائع شدہ خبر اور تصویر

روزنامہ جنگ ملتان کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ظفر آہیر پر اتوار کو علی الصبح نامعلوم حملہ آوروں نے حملہ کیا جس میں زخمی ہو گئے۔

ایک اور واقعے میں روزنامہ جنگ کی گاڑی جو اخبارات لے کر ملتان سے لودھراں جا رہی تھی حملہ کیا گیا اور ڈرائیور کو اخبار کے مطابق تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اخبارات کے بنڈل چھین لیے گئے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ملتان پولیس کے ایس پی کینٹ محمودالحسن کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد ہی حملے کے اصل محرکات کے بارے میں معلوم ہو سکے گا۔ انھوں نے کہا کہ متاثرہ صحافی نے ابھی تک حملے کے خلاف رپورٹ درج نہیں کرائی ہے۔

ظفر آہیر کا آڈیو انٹرویو

زخمی ہونے والے مدیر ظفر آہیر نے بی بی سی اردو کے ریڈیو پروگرام سیربین میں ہنیا علی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’مجھے مختلف طرف سے دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔‘

ظفر آہیر نے بتایا کہ ’موٹرسائیکل سوار اور گاڑی پر سوار افراد نے مجھے روک کر مارا، میری گاڑی کے شیشے توڑ دیے۔ میرے منہ پر پسٹل کے بٹ مارے، میرے ہونٹ پھٹ گئے، میرا منہ اندر سے پھٹ گیا، میرے کندھوں پر بٹ مارے۔‘

انھوں نے بتایا کہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب بھی ان کی گاڑی کا چھ موٹر سائیکل سواروں نے پیچھا کیا مگر وہ سڑک کھلی ہونے کی وجہ سے گاڑی بھگا کر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

ظفر آہیر کے مطابق ’حملہ آور بہت ماہر تربیت یافتہ لوگ تھے۔ اچھے قد والے تھے۔ انہوں نے اتنی مہارت سے سارا کام کیا نہ انہوں نے کوئی شور کیا۔ ایک جو مجھے مار رہا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ تم لوگ جو جنگ والے ہو وہ غدار ہو، یہودی ہو، انڈین ایجنٹ ہو، تم لوگ صحابہ کی شان میں گستاخی کرتے ہو اہل بیت کی شان میں گستاخی کرتے ہو۔‘

ظفر آہیر نے مزید بتایا کہ جب انھیں مارا جا رہا تھا تو باقی لوگ خاموشی سے اپنا کام کر رہے تھے کوئی شیشے توڑ رہا تھا تو کوئی ونڈ سکرین توڑ رہا تھا۔

روزنامہ جنگ ملتان کے دفتر میں کام کرنے والے ڈسپیچر محمد طفیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اخبار کے بنڈل ملتان سے لودھراں لیجانی والی گاڑی کو روک کر اخبار کے بنڈل چھین لیے گئے اور ڈرائیور پر تشدد کیا گیا۔

یاد رہے کہ حامد میر پر ہونے والے حملے کے بعد اس سے قبل بھی جنگ اخبار لیجانے والی گاڑیوں پر حملے کیے جا چکے ہیں اور اخبارات کو چھینا اور ضائع کیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں