’67 لاکھ پاکستانی بچے سکول نہیں جاتے ‘

بچے
Image caption ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکول نہ جانے والوں میں انتالیس فیصد لڑکے اور چھیالیس فیصد لڑکیاں ہیں۔

پاکستان کے اقتصادی جائزے 14-2013 کے مطابق ملک میں خواندگی کی شرح تو 60 فیصد ہے لیکن پانچ سے نو سال کی عمر کے 67 لاکھ بچے سکول ہی نہیں جا پاتے۔

ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکول نہ جانے والوں میں 39 فیصد لڑکے اور 46 فیصد لڑکیاں ہیں۔

سروے کے مطابق بچوں کو پرائمری کی سطح پر تعلیم دلوانے کا سب سے زیادہ رحجان پنجاب میں ہے جہاں 93 فیصد بچے سکول جاتے ہیں جبکہ بلوچستان میں پانچ سے نو سال کے عمر کے سکول جانے والے بچوں کا تناسب 65 فیصد ہے۔

بچوں کے سکولوں میں اندارج کے حکومتی منصوبے کے تحت سنہ 2013 سے 2016 تک پچاس لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کروایا جائےگا۔

پاکستان اپنی خام ملکی پیداوار کا دو فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ 2018 تک تعلیم کے لیے مختص فنڈ دوگنا کر دیا جائے گا۔

سروے میں فراہم کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں آٹھویں جماعت تک 1000 طلبہ کے لیے 42 سکول ہیں جبکہ 1000 طلبہ کے لیے صرف ایک ڈگری کالج ہی موجود ہے۔

پاکستان میں ڈگری جاری کرنے کا اختیار رکھنے والے اداروں اور جامعات کی تعداد 156 ہے۔ ان میں سرکاری اداروں کی تعداد 88 اور نجی کی 69 ہے۔ ڈگری جاری کرنے والے اداروں میں 12لاکھ 30 ہزار طلبا و طالبات زیر تعلیم زیر تعلیم ہیں۔

صحت

تعلیم کے ساتھ ساتھ پاکستان میں صحت کا شعبہ میں بھی سہولتوں کا فقدان ہے۔ پاکستان میں صحت عامہ پر خام ملکی پیدوار کا محض چار فیصد ہی خرچ کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد ایک لاکھ 67 ہزار سات سو 69 ہے۔ یعنی ایک ہزار99 افراد کے علاج معالجے کے لیے صرف ایک ڈاکٹر ہے۔ جبکہ صرف سرکاری ہسپتالوں میں موجود وسائل اس قدر محددو ہیں کہ 1647 افراد کے علاج کے لیے ایک بستر ہے۔

اکنامک سروے کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ لیڈی ہیلتھ ورکرز ہیں جو گھر گھر جا کر خواتین اور بچوں کو طبی سہولتیں فراہم کر رہی ہیں لیکن ملک میں 1000 نوزائیدہ بچوں میں 66 بچے اپنی پیدائش کے فورًا بعد مر جاتے ہیں۔

پاکستان میں صرف52 فیصد بچے تربیت یافتہ طبی عملے کی نگرانی میں پیدا ہوتے ہیں جبکہ ملینیم ڈویلپمنٹ کے اہداف کے مطابق یہ شرح 90 فیصد سے زیادہ ہونی چاہیے۔

پاکستان میں خواتین کی اوسط عمر تقریباً 67 برس اور مردوں کی عمر 64 سال ہے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے چھٹے گنجان آباد ملکوں میں ہوتا ہے اور اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی 9ء1 کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ ملک کی مجموعی آبادی 18 کروڑ 80 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ جن میں 51 فیصد مرد اور 49 فیصد خواتین ہیں۔

پاکستان میں کمانے کے قابل افراد کی مجموعی تعداد پانچ کروڑ 72 لاکھ ہے لیکن ان میں سے صرف پانچ کروڑ 60 لاکھ کو ملازمت کے مواقع میسر ہے۔ اقتصادی جائزے کے مطابق ملک میں بےروزگاری کی شرح 2ء6 فیصد ہے۔

حکومت نے غربت کی تعریف تبدیل کر دی گئی ہے اور اب یومیہ دو ڈالر سے کم کمانے والے خطِ غربت سے نیچے شمار ہوتے ہیں۔ جائزہ رپورٹ میں دیے گئے عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی کی یومیہ آمدنی دو ڈالر سے کم ہے۔

اسی بارے میں