شمالی وزیرستان امن، جرگہ عمائدین سرگرم

شمالی وزیرستان
Image caption کہا جاتا ہے کہ جرگے کی کوششوں کے بعد علاقے میں خاموشی ہے اور نقل مکانی کا سلسلہ بھی کسی حد تک کم ہوگیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں امن کے لیے قبائلی جرگوں کے عمائدین نے کوششیں تیز کر دی ہیں اور اس سلسلے میں پولیٹکل انتظامیہ سے ملاقاتیں کی ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور امن کی راہ نکالنے میں کامیاب ہوں گے۔

پیر کو وزیرستان امن جرگے کے اراکین نے اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں جب کہ گزشتہ روز اتمانزئی وزیر قبائل جرگے کے رہنماؤں نے میرانشاہ میں پولیٹکل انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کے بعض اراکین سے ملاقاتیں کی تھیں۔

ان دنوں وزیرستان میں دونوں جرگے متحرک ہیں اور کل ان دونوں جرگوں کا اجلاس متوقع ہے جس میں علاقے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔

وزیرستان امن جرگے کے سربراہ ملک جان فراز نے بی بی سی کو بتایا وزیرستان میں انتظامیہ سے ملاقاتوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

انھو ں نے کہا کہ اتمانزئی قوم کی شوری اور انتظامیہ نے اپنے اپنے موقف سے انھیں آگاہ کیا ہے اور اب وہ اتمانزئی امن جرگے کے سربراہ سے ملاقات کریں گے۔

اتمانزئی وزیر قبائل جرگے کے سربراہ حاجی شیر محمد کی سربراہی میں چند دنوں میں دو اہم اجلاس ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے شرکت کی تھی۔

جرگے کے اراکین نے بتایا ہے کہ جرگے کی کوششوں کے بعد سے اب علاقے سے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ رک گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ شمالی وزیستان میں آج کرفیو نافذ رہا اور ایجنسی کے داخلی اور خارجی راستے بند کیے گئے۔

میر علی اور میرانشاہ میں کوئی دو ہفتے پہلے سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد سے اب تک کوئی آٹھ سو خاندان نقل مکانی کرکے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں پہنچے ہیں۔

نقل مکانی کرنے والے افراد کا کہنا تھا کہ انھیں راستے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

متاثرین نے کہا کہ ’ان کے علاقے میں کبھی بمباری ہے اور کبھی کچھ اور ہوتا رہتا ہے اور اسی لیے وہ علاقے سے نکل آئے ہیں۔ راستے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، ہم آپریشن سے ڈرتے ہیں گھر کے استعمال کے لیے کوئی چیز خریدنے کے لیے بھی باہر نہیں نکل سکتے، ہم نے دس ہزار روپے کرائے پرگاڑی لی ہے اور اب پشاور جا رہے ہیں۔‘

یاد رہے چند روز پہلے شوریٰ مجاہدین شمالی وزیرستان حافظ گل بہادر گروپ کی جانب سے ایک پمفلٹ جاری کیا گیا تھا جس میں لوگوں سے کہا گیا تھا کہ علاقے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اس لیے وہ اپنی جان بچانے کے لیے دیگر محفوظ علاقوں کو چلے جائیں۔

اس بیان کے بعد لوگوں میں خوف پھیل گیا تھا لیکن اب جرگے کی کوششوں کے بعد علاقے میں خاموشی پائی جاتی ہے اور نقل مکانی کا سلسلہ بھی کسی حد تک کم ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں