ریاستی ادارے سیاسی پسند و ناپسند کو کسوٹی نہ بنائیں: صدر ممنون

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption ’یہ امر نہایت حوصلہ افزا ہے کہ ہمارے تمام سول اور عسکری ادارے بڑی خوش اسلوبی اور حب الوطنی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں‘

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی اداروں سے کہا ہے کہ وہ ملکی قوانین کے تحت اپنے فرائض سر انجام دیں اور سیاسی پسند و ناپسند کو کسوٹی نہ بنائیں۔

انھوں نے کہا: ’قانون کی نظر میں ہر علاقے کے عوام برابر ہیں اور ان کی زبان، رنگ، نسل، سیاسی وابستگی اور خاندانی پس منظر ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔‘

صدر ممنون حسین نے کہا کہ قوم اچھی طرح جانتی ہے کہ ریاستی اداروں کے درمیان تعاون اور افہام و تفہیم کی فضا برقرار رکھنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ امر نہایت حوصلہ افزا ہے کہ ہمارے تمام سول اور عسکری ادارے اپنے فرائض بڑی خوش اسلوبی اور حب الوطنی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔

’افواج پاکستان نہ صرف ہماری سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ اب داخلی سکیورٹی میں بھی ان کا اہم کردار سامنے آیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی ترقی لازم و ملزوم ہو چکی ہیں اور تمام مسائل کا حل آئین کے اندر رہتے ہوئے مروجہ جمہوری طریقے کے ذریعے ڈھونڈنا ہے۔

’آئین میں تمام پارلیمانی سیاسی قوتوں کا کردار موجود ہے۔ یہ وہ آئینی ڈھانچہ ہے جس کے ذریعے وفاق اور وفاقی اکائیوں نے مل کر اپنے مسائل کا حل ڈھونڈنا ہے اور عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنا ہے۔ جمہوریت، قانون اور آئین کی بالادستی پاکستان کا حال ہے اور یہی پاکستان کا مستقبل۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جمہوریت کشیدگی، محاذ آرائی، مخالفت برائے مخالفت اور انتقام کا نام نہیں بلکہ جمہوریت کی شان یہی ہے کہ اکثریت کی رائے کا احترام کیا جائے، شخصیات پر قومی اداروں کو فوقیت دی جائے اور جماعتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح حاصل رہے۔‘

صدرِ مملکت نے میڈیا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا بلاشبہ آزاد ہے اور اس کی یہ آزادی دنیا کے کئی ممالک کے لیے مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ ۔

’اہل وطن محسوس کرتے ہیں کہ میڈیا کو اپنی آزادی کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں اور حدود کا یکساں طور پر احساس کرنا چاہیے۔‘

مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت میڈیا پر کسی قسم کی پابندی کا تصور بھی نہیں کر سکتی، البتہ وہ یہ توقع ضرور رکھتی ہے کہ میڈیا اپنے طور پر اپنے لیے ایسا ضابطۂ اخلاق مرتب کرے اور اس پر عمل کرے جس سے قوم کے وقار میں اضافہ ہو اور عوام میڈیا کو اپنی امنگوں کا حقیقی ترجمان اور نمائندہ تسلیم کریں۔

اقلیتوں پر بات کرتے ہوئے صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو شہری کی حیثیت سے برابر کے حقوق حاصل ہیں اور ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جاتا۔

’حکومت کی کوشش ہے کہ اقلیتوں کو سماجی اور سیاسی حقوق دینے کے ساتھ ساتھ ان کو مذہبی حوالے سے بھی تحفظ فراہم کیا جائے۔ حکومت اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کے سلسلہ میں اپنا فرض خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کر رہی ہے، اسی طرح وہ اپنے عقائد کے مطابق اپنی مذہبی رسومات اور تقریبات کے ضمن میں آزاد ہیں۔‘

خارجہ امور پر بات کرتے ہوئے صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستانی ایک پرامن قوم ہیں اور اسی جذبہ کے تحت ہم دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ، خاص طور پر اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ برابری، باہمی احترام اور عزت و وقار کی بنیاد پر دو طرفہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔

اسی بارے میں