’نہ دروازے توڑے گئے نہ دیواریں پھلانگی گئیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ MQM

ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لندن پولیس الطاف حسین کو حراست میں لے کر ’انٹرویو‘ کے لیے تھانے لی گئی ہے۔

مصطفیٰ عزیز آبادی نے بی بی سی کے شفیع نقی جامعی سے ریڈیو پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے تازہ ترین صورتحال بتائی کہ ’پولیس کئی گھنٹے تک قائدِ تحریک الطاف حسین کی رہائش گاہ پر رہی اب ان کو ایک پولیس سٹشین لے جایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ الطاف حسین کے وکلا نے بتایا ہے کہ پولیس کے ڈاکٹر پہلے قائدِ تحریک کا طبی معائنہ کریں گے کہ وہ اس وقت پولیس کو انٹرویو دینے کی پوزیشن میں ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد ہی وہ کچھ بتا سکیں گے۔

مصطفیٰ عزیز آبادی نے مزید بتایا کہ ’ان کے پاس وکلا موجود ہیں اور وہ پولیس کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔ ‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’پولیس کئی گھنٹے تک رہائش گاہ پر رہی ہے اور اس کارروائی کا آغاز علی الصبح ہوا اور انھوں نے وہاں (رہائش گاہ) کی تلاشی وغیرہ بھی لی ہے‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کتنی دیر پولیس رہائش گاہ پر رہی تو انھوں نے بتایا کہ ’کئی گھنٹے آپ کہہ سکتے ہیں۔‘

مصطفیٰ عزیز آبادی سے جب پوچھا گیا کہ کیا پولیس کچھ اشیا اور مواد رہائش گاہ سے لے کر گئی ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ’وہ کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں اور تفصیلات بتانے سے قاصر ہیں۔‘

ایم کیو ایم کی جانب سے مستقبل کی حکمتِ عملی کے بارے میں مصطفیٰ عزیز آبادی نے بتایا کہ ’ہمارے وکلا پوری قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں الطاف حسین کوئی عام آدمی نہیں ہیں بلکہ پاکستان کی ایک بڑی، منظم اور متحرک جماعت کے قائد ہیں اور کروڑوں ان کے چاہنے والے ہیں تو کارکنوں میں عوام میں جو پاکستان میں ہیں یا پاکستان سے باہر ہیں ان میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔

مصطفیٰ عزیز آبادی نے بتایا کہ پولیس ’کا یہ کہنا ہے کہ وہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے کچھ پوچھ گچھ کرنا چاہتے ہیں۔‘

مصطفیٰ عزیز آبادی نے پاکستانی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستانی چینلز سنسنی کو زیادہ پسند کرتے ہیں اور اسی کو پھیلاتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا پر غلط خبریں پھیلائی جا رہی ہے جیسا کہ یہ خبر کہ پولیس دیواریں پھلانگ کر رہائش گاہ میں داخل ہوئی یا دروازے توڑے گئے تو ایسا کچھ نہیں ہوا اور ’یہ پاکستان کی پولیس نہیں ہے بلکہ لندن کی پولیس ہے۔‘

اسی بارے میں