پاکستان کو الطاف حسین تک رسائی مل گئی

Image caption الطاف حسین اس وقت برطانوی پولیس کی حراست میں لندن کے ولنگٹن ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں

برطانیہ نے پاکستان کی جانب سے ایم کیو ایم کے زیرِ حراست سربراہ تک رسائی کی درخواست قبول کرتے ہوئے پاکستان کے ہائی کمشنر کو الطاف حسین سے ملاقات کی اجازت دی ہے۔

ادھر حکومتِ پاکستان نے الطاف حسین کو پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

’کارکن پرامن رہیں ، ‘ الطاف حسین کا ہسپتال سے فون

الطاف حسین طبی معائنے کے لیے تھانے سے ہسپتال منتقل

لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنر محمد عمران مرزا نے جمعرات کی صبح الطاف حسین سے ملاقات کی ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کو 20 منٹ ملاقات کی اجازت دی گئی اور اس میں قونصل خانے کے دو اور اہلکار بھی شریک تھے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار کے مطابق پاکستانی حکام کو ملاقات کی اجازت دیے جانے کے برعکس ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان کو ایک مرتبہ پھر الطاف حسین سے ملنے نہیں دیا گیا۔

جماعت کے رہنما بابر غوری سمیت رابطہ کمیٹی کے ارکان جمعرات کو ہسپتال پہنچے تھے تاہم انھیں پارٹی کے قائد سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ادھر کراچی میں ایم کیو ایم کے سربراہ کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے

الطاف حسین اس وقت برطانوی پولیس کی حراست میں لندن کے ولنگٹن ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں جہاں انھیں منگل کی شام لایا گیا تھا۔

پاکستان نے ان کی منی لانڈرنگ کے مقدمے میں گرفتاری کے بعد برطانیہ سے ان تک رسائی کی باضابطہ درخواست کی تھی۔

ادھر پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کو پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کرنے سے متعلق کوئی اختلاف نہیں ہے۔

اُنھوں نے ایم کیو ایم کے قائد کو برطانیہ میں حراست میں لیے جانے کے بعد کراچی میں اُن کی قیادت کی طرف سے معمولات زندگی بحال کرنے کے فیصلے کو سراہا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل وزارت داخلہ سے متعلق ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے سینیٹر طاہر مشہدی نے بتایا تھا کہ وفاقی حکومت نے اُنھیں الطاف حسین کو پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کرنے سے متعلق یقین دہانی کروائی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فائرنگ اور کاروبار بند ہونے پر شہر کی بڑی سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا

کراچی میں احتجاج جاری

ادھر کراچی میں ایم کیو ایم کے سربراہ کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے جمعرات کو نمائش چورنگی پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ شب الطاف حسین کی ٹیلیفون پر ان کی بیٹی سے بات ہوئی ہے، اب ان کی کوشش ہے کہ ہپستال میں بیٹی کی والد سے ملاقات ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کے کچھ ٹیسٹ کیے گئے ہیں جبکہ ابھی کچھ اور ٹیسٹ لیے جائیں گے جس کے بعد ڈاکٹر وکلا کو آگاہ کریں گے اور پھر پولیس کی مزید قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

الطاف حسین کی لندن میں گرفتاری کے تیسرے دن جمعرات کو کراچی میں کاروباری سرگرمیاں بحال ہوئے ابھی چند ہی گھنٹے گزرے تھے کہ بعض علاقوں میں بازار اور مارکیٹیں بند ہونا شروع ہوگئیں، جبکہ حیدر آباد شہر کے بڑے حصے کو بھی بند کرا لیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایم کیو ایم نے جمعرات کو کراچی میں کاروبار بند کرانے کے واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے

کراچی کے تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میر نے بی بی سی کو بتایا کہ لیاقت آْباد، گلشن اقبال، ناظم آباد، گلبہار اور پاک کالونی میں زبردستی کاروبار بند کرایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل پر سوار افراد نے دکان داروں کو للکارتے ہوئے کہا کہ ’کاروبار بند کردو ورنہ اچھا نہیں ہوگا،‘ جس کے بعد مارکیٹیں بند ہونا شروع ہوگئیں۔

عتیق میر کا کہنا تھا کہ انھوں نے پولیس اور رینجرز سے رابطہ کر کے مطالبہ کیا ہے کہ دکانداروں کو تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ دو روز کاروبار بند رہنے سے پہلے ہی بہت نقصان ہوچکا ہے۔

کراچی میں برنس روڈ، صدر، کلفٹن، لانڈھی سمیت ستر فیصد کاروباری اور تجارتی مراکز بند ہوگئے جبکہ فائرنگ اور کاروبار بند ہونے پر نجی گاڑیوں کے مالکان نے پیٹرول پمپوں کا رخ کیا جہاں رش لگ گیا لیکن بعد میں پیٹرول پمپ، بینکوں سمیت تمام نجی ادارے بند ہوگئے۔

شہر کے بند ہونے پر صوبائی حکومت کی خاموش ہے، رینجرز اور پولیس کی جانب سے بھی کوئی کارروائی سامنے نہیں آئی۔ لوگوں کی جانب سے گھروں کا رخ اختیار کرنے کی وجہ سے ایک بار پھر سڑکوں پر ٹریفک جام اور افراتفری کے مناظر نظر آئے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں کاروبار بند کرانے کے واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

رابطہ کمیٹی نے ایک اعلامیے میں کراچی اور حیدرآباد میں شرپسند عناصرکی جانب سے فائرنگ اور کاروبار بند کرانے کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات سے ایسا لگتاہے کہ بعض عناصر اس طرح کی کارروائیوں کے ذریعے صورتحال کوخراب کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس کا الزام ایم کیوایم پر لگایا جائے اور اسے بدنام کیا جائے۔

ایم کیوایم نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں اور اپنے جذبات قابو میں رکھیں۔

اسی بارے میں