بلوچستان سے تین تشدد شدہ لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بلوچستان میں گذشتہ کئی سالوں سے تشدد شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دو مختلف علاقوں سے تین افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں جبکہ دو افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

جمعے کو دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں ضلع قلات کے علاقے سے برآمد ہوئی ہیں۔

قلات انتظامیہ کے ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دونوں افراد کی لاشیں ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں جہاں ان میں سے ایک کی شناخت ہوگئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان میں سے ایک شخص کوگولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے جبکہ دوسرے کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں۔دونوں افراد کو ہلاک کیے جانے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے۔

تاہم اہلکار نے شک اظہار کیا یہ کارروائی کسی مسلح تنظیم کی ہو سکتی ہے۔تیسری لاش ایران سے متصل بلوچستان کے ضلع کیچ سے ملی ہے۔

لیویز فورس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہلا ک کیے جانے والا شخص پیشے کے لحاظ سے ٹیچر تھا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ہلاک کیا جانے والا شخص دو روز قبل اپنے گھر سے شکار کے لیے پہاڑی علاقے میں گیا تھا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے ان کو سات کے قریب گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ محکمۂ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے تشدد زدہ لاشوں کی بر آمدگی سے متعلق جو اعداد و شمار پیش کیے گئے تھے ان کے مطابق سنہ 2010 سے ستمبر2013 تک بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 2 61 افرادکی لاشیں ملی تھیں۔

لیکن لاپتہ افراد کے لیے کام کرنے والی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز نے ان اعداد و شمار کو مسترد کر دیا تھا۔

وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے مطابق ان کی تعداد 2 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

دوسری جانب ضلع کیچ ہی کے علاقے بلیدہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔

کیچ میں لیویز فورس کے ایک اہلکار کے مطابق بلیدہ میں دو افراد ایک گاڑی کے پاس کھڑے تھے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد آئے اور ان پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دونوں افراد ہلاک ہوگئے۔

اسی بارے میں