انسداد دہشت گردی ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ بل قومی اسمبلی سے پہلے ہی منظور ہو چکا تھا

پاکستان کے ایوان زریں یعنی قومی اسمبلی میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل سنہ 2014 منظور کر لیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں اس مجوزہ بل میں ترامیم کرنے کے بعد اس کی منظوری دی گئی تھی۔

اب یہ بل صدر کے پاس منظوری کے لیے جائے گا اور ان کے دستخط ہونے کے بعد ملک بھر میں نافذ ہو جائے گا۔

سینیٹ میں انسداد دہشت گردی کے ترمیمی بل کی چار شقوں میں ترامیم منظور کی گئی تھیں جن میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو کسی بھی مشتبہ شخص کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے حکم، غلط الزام لگانے والے سرکاری افسر کے خلاف کارروائی اور دورانِ حراست ملزم کو تمام طبی سہولتیں اور قانونی معاونت فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے عددی اکثریت ہونے کی وجہ سے قومی اسمبلی سے اسے منظور کروا لیا تھا تاہم حزب مخالف کی جماعتوں نے اس پر احتجاج کیا تھا۔ سینیٹ میں حکمران جماعت کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ حزب مخالف کی جماعتوں نے اس بل کی چار شقوں میں ترمیم کی جسے حکومتی جماعت نے منظور کر لیا۔

انسداد دہشت گردی ترمیمی بل میں سینیٹ نے جو ترامیم کی ہیں اُن میں کہا گیا ہے جب تک کوئی میجسٹریٹ یا گریڈ 17 کا افسر سکیورٹی فورسز یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو اجازت نہیں دے گا اُس وقت تک کسی بھی مشتبہ شخص پر گولی نہیں چلائی جائے گی۔

اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار کسی بھی مشتبہ شخص کو کسی بھی الزام میں حراست میں لیتے ہیں اور بعد میں یہ الزام غلط ثابت ہو جاتا ہے تو ایسے میں اُس اہلکار کو دو سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے یا جُرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

اس بل کے تحت کسی بھی مشتبہ شخص کو 90 دنوں کے لیے تفتیش کے لیے حراست میں رکھا جا سکتا ہے جسے کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔

ملک میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافے کی وجہ سے انسداد دہشت گردی بل کی منظوری وقت کا اہم تقاضا تھا اور مسلح افواج کے سربراہوں نے بھی متعدد بار حکومت کو انسداد دہشت گردی ایکٹ سنہ 1997 میں ترمیم کرنے سے متعلق کہا تھا۔

سکیورٹی فورسز شدت پسندی کے واقعات میں جتنے بھی افراد کو گرفتار کرتی ہیں تو اُن کے ورثا اس اقدام کے خلاف عدالتوں میں درخواستیں دائر کر دیتے ہیں اور عدالتیں سکیورٹی اہلکاروں کو طلب کرلیتی ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق عدالتوں میں ایسی کارروائیوں سے سکیورٹی فورسز کی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں متاثر ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں