پانچ گھنٹوں کا آپریشن، ’10 دہشت گردوں سمیت 23 ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہوائی اڈے پر حملے کی جوابی کارروائی کے لیے فوج بھی پہنچ چکی ہے

پاکستان کے شہر کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے جناح انٹرنیشنل پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان پانچ گھنٹے جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے اور دھماکوں کے بعد اب خاموشی چھا گئی ہے۔

ہوائی اڈے پر حملہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے دس بجے کے قریب کیا گیا جس میں ایئر پورٹ سکیورٹی فورس کے اہلکاروں سمیت کم سے کم 23 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ صورتِ حال کو قابو میں لانے کے لیے فوج نے بھی رینجرز اور سکیورٹی فورسز کی مدد کی۔

کراچی میں ایس ایس پی سی آئی ڈی راجہ عمر خطاب کے مطابق اب تک 10 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ترجمان عاصم باجوہ نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’علاقہ کلیئر، ہوائی جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، تصاویر میں نظر آنے والی آگ جہاز کی نہیں بلکہ عمارت کی تھی، جسے اب بجھا دیا گیا ہے، تمام اہم اثاثے محفوظ ہیں۔‘

وزیر قائم علی شاہ کے مطابق ’آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے کارروائی میں 10 دہشت گرد مارے گئے جبکہ پولیس، رینجرز، ایئر پورٹ سکیورٹی فورسز اور ہوائی اڈے کے عملے کے 13 ارکان ہلاک ہوئے۔‘

سیکیورٹی ناقص اور مزاحمت مؤثر نہیں تھی

مہران اڈے پر حملے میں غیر ملکی ملوت تھے

ہوائی اڈے پر مزاحمت رکنے بعد محتاط تلاشی کا کام جاری ہے تاہم حکام روشنی ہونے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ جامع تلاشی لی جا سکے۔

اس سے قبل کراچی کے جناح ہسپتال میں ایمرجنسی کے شعبے کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ اب تک حملہ کے دوران 14 افراد کی لاشیں ہسپتال لائی گئیں جن میں 5 حملہ آور، 7 اے ایس ایف کے اہلکار جبکہ باقی سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کے اہلکار تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہوائی اڈے پر مزاحمت رکنے بعد محتاط تلاشی کا کام جاری ہے تاہم حکام روشنی ہونے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ جامع تلاشی لی جا سکے

تاہم کراچی کے اے آئی جی غلام قادر تھیبو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہلاکتوں کی تعداد 11 بتائی۔ ان کا کہنا تھا کے سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آوروں کے قبضے سے 4 ایس ایم جی اور ایک راکٹ لانچر برآمد کیا ہے۔

سول ایوی ایشن کے ترجمان عابد قائم خانی کا کہنا ہے کہ اس وقت نقصان کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ہر طرح کا ایئرپورٹ آپریشن معطل کیا گیا۔

حملے کے دوران ایئرپورٹ سے دھوئیں کے بادل اٹھتے رہے جبکہ وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ حملہ آور اولڈ ایئر پورٹ کی جانب سے اندر داخل ہوئے۔

ایئر پورٹ کے احاطے میں موجود انجینیئرنگ کی دو منزلہ عمارت کے اندر حملہ آوروں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان کافی دیر مقابلہ جاری رہا۔ یہی وہ عمارت ہے جہاں سے حملہ آور ہوائی اڈے کے اندر داخل ہوئے۔

سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق اس جگہ کم سے کم تین حملہ آور مارے گئے ہیں۔ ایک حملہ آور کی لاش عمارت کے باہر پڑی ہے جس نے خود کش جیکٹ پہن رکھی تھی۔ سکیورٹی فورسز کی گولی لگنے کے بعد اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

کارروائی کے دوران ہی پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ عاصم باجوہ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ان کی آپریشنل کمانڈر سے بات ہوئی ہے جنھوں نے بتایا ہے کہ ’دہشت گرد ایک مخصوص علاقے میں موجود ہیں جہاں ان کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ جناح ٹرمینل محفوظ ہے اور کسی جہاز کو آگ نہیں لگی۔‘

پی آئی اے کے اہلکاروں نے فورسز کو بتایا ہے کہ یہ حملہ آور دو گروہوں کی صورت آئے تھے اور ایک دوسرے مقام سے بھی نکل کر فائرنگ کرتے رہے۔ اے ایس ایف کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں کے پاس راکٹ بھی ہیں۔

عاصم باجوہ کے مطابق جہازوں میں موجود تمام مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

سماجی سابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں ڈی جی ائی ایس پی آر عاصم باجوہ نے کہا کہ ’کراچی کے ہوائی اڈے کے اندر سے براہِ راست نشریات بند ہونی چاہیئں کیونکہ یہ کارروائی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ اس کی مدد سے فوجیوں کی موجودگی اور اہم مقامات کی نشاندہی ہو رہی ہے جو دہشت گردوں کی مدد کے مترادف ہے۔‘

کراچی کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے بتایا کہ پانچ سے چھ مسلح افراد پرانے ٹرمینل سے ایئرپورٹ داخل ہوئے اور اس دوران انہوں نے دستی بم کے دھماکے بھی کیے۔

حملے کانشانہ بننے والے حصے میں ہوائی اڈے کا ٹرمینل ٹو بھی جو حج پروازوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں کچھ کارگو جہاز بھی رُکتے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے تصدیق کی ہے کہ فوج کے دستے بھی آپریشن میں حصہ لینے کے لیے بھیجے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی آئی اے کے اہلکاروں نے فورسز کو بتایا ہے کہ یہ حملہ آور دو گروہوں کی صورت آئے تھے اور ایک دوسرے مقام سے بھی نکل کر فائرنگ کرتے رہے

ایئرپورٹ کے اندر کی حفاظت اے ایس ایف کی ذمے داری ہے جبکہ پولیس اور رینجرز بھی مدد کے لیے پہنچی اور علاقے کو گھیر لیا گیا۔

کراچی ہوائی اڈے پر آنے والی پروازوں کو دوسرے شہروں کی طرف موڑ دیا گیا تھا۔

پولیس نے جناح ٹرمینل سے ایک مشکوک شخص کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ جس نے سرمئی رنگ کی قمیض شلوار پہن رکھی تھی اور چہرے پر ہلکی داڑھی تھی۔

اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے ڈی جی رینجرز سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے ہوائی اڈے پر پھنس جانے والے لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنائیں۔

وزیرِ اعظم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’دہشت گردوں کو جلد از جلد شکست دی جائے۔‘

بیان کے مطابق وزیرِ اعظم کی ہدایت پر فوج بھی اس کارروائی میں مدد دینے کے لیے روانہ کر دی گئی ہے۔

پاکستان کی سول ایوی ایشن کے ترجمان عابد قائم خانی نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی جہاز کو اغوا نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے مزید بتایا کہ ایئر پورٹ کے ایک حصے میں چند ناکارہ طیارے کھڑے تھے جن میں سے ایک کو گولیاں لگی ہیں اور اس مقام سے دھواں اٹھ رہا ہے۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور فوکر گیٹ سے اندر آئے جہاں اے ایس ایف کے اہلکاروں کے ساتھ ان کا مقابلہ ہوا، انھوں نے بتایا کہ اڈے کے احاطے میں کھڑے ایک نئے طیارے کو بھی نقصان پہنچا۔

ایک شخص نے بتایا کے حملہ آور ایک وین میں آئے تھے جو انہیں اتار کر آگے چلی گئی۔

نامہ نگار حسن کاظمی سے بات کرتے ہوئے ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے ڈائریکٹر انٹیلی جنس ممتاز میمن نے بتایا کہ اس پوری کارروائی کے دوران ابھی تک نہ تو کسی مسافر طیارے کو نقصان پہنچا ہے اور نہ ہی کسی مسافر کو کوئی گزند آئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ صرف ایئرپورٹ کے کارگو شیڈ میں آگ لگی ہے۔ انہوں بعض پاکستانی چینلز پر چلنے والی اس خبر کی بھی تردید کی کہ ایئرپورٹ کے تیل ڈپو کو آگ لگ گئی ہے۔

یاد رہے کہ ایئر پورٹ پر جہاں حملہ کیا گیا ہے یہاں سے چند کلومیٹر دور پاکستانی بحریہ کی مہران بیس موجود ہے جس پر ماضی میں ایک بڑا دہشتگرد حملہ ہو چکا ہے۔ 22 مئی 2011 کو بحریہ کے بیس پی این ایس مہران پر حملے میں دس اہلکار اور حملہ کرنے والے دہشتگردوں میں سے تین ہلاک ہوئے۔

اس وقت پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ حملہ کرنے والے دہشتگردوں کی تعداد چار سے چھ تھی جو حفاظتی باڑ کاٹ کر سیڑھیوں کی مدد سے فوجی اڈے میں داخل ہوئے اور آتے ہی رن وے پر کھڑے جہازوں کو نشانہ بنایا جس سے دو جہاز تباہ ہوگئے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے بحریہ کے بیس پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا تھا کہ یہ حملہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا انتقام تھا۔

اسی بارے میں