مذاکرات کا دروازہ بند ہوگیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی ایئر پورٹ اور شمالی وزیرستان میں ہوئے حملے قابل مذمت ہیں: پروفیسر ابراہیم

کراچی ایئرپورٹ پر شدت پسندوں کےحملے کے بعد کیا اب حکومت پاکستان اور طالبان کے مابین مذاکرات کا دروازہ بند ہوگیا ہے؟

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مذاکرات کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اب حکومت کے لیے اہم فیصلے کرنے کا وقت ہے۔

پاکستان میں شدت پسندوں کے حالیہ چند حملوں کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے حکومت کی پالیسی کیا ہوگی۔ کالعدم تحریک طالبان نے کراچی ایئر پورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ بامقصد مذاکرات کے لیے ان کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔

طالبان اور حکومت کے مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور سابق سفیر رستم شاہ مہمند کہتے ہیں کہ کراچی ایئر پورٹ پر حملے سے ملک اور حکومت کی بدنامی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ عملاً ختم ہو چکا ہے او اگر مذاکرات شروع کیے جائیں گے تو اس کے لیے علیحدہ سے حکمت عملی بھی بنائی جائے گی۔

جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے صدر اور طالبان مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم کہتے ہیں کہ اگرچہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں لیکن ان کی نظر میں اس مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کراچی ایئر پورٹ اور شمالی وزیرستان میں ہوئے حملے قابل مذمت ہیں لیکن تمام فریقین کو امن کے قیام کے لیے ہی سوچنا ہوگا ۔

کالعدم تنطیم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات شروع کرتے وقت بیشتر سیاسی جماعتیں اور تجزیہ کار مختلف رائے رکھتے تھے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر طالبان سے مذاکرات کو ترجیح دی تھی اور اس کے لیے شروعات بھی کی گئیں لیکن اب ان مذاکرات میں تعطل پایا جاتا ہے ۔

دفاعی امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد کہتے ہیں کہ حکومت کے پاس شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات شروع کیےگئے تھے تو منصوبہ سازوں کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے تھا کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں کیا ہونا چاہیے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا چیلنج ہے اس کے حل کے لیے حکومت کو مستقل بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔