’دوسری ٹولی کہاں سے آئی؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایئرپورٹ کے قریب سے ہی ایک راستہ پہلوان گوٹھ کی جانب جاتا ہے، ہم نے اسی طرف سے آخری کوشش کی

کراچی شہر کی تین دن کی بندش اور غیر یقینی صورتِ حال کے اختتام پر کئی شہریوں کی طرح میں بھی اتوار کی ہفتہ وار چھٹی سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اسلام آباد آفس سے آنے والے ٹیلیفون نے نیند اڑا کر دوڑیں لگا دیں کہ کراچی ایئرپورٹ پر حملہ ہوگیا ہے۔

نیوز چینلوں پر ابتدائی طور پر وہی روایتی خبریں تھیں کہ دھماکے کی آوازیں آرہی ہیں، جس پر میں نے بھی روایتی جواب دیا کہ دستی بم حملہ ہوگا، کوئی خاص بات نہیں۔ لیکن مجھے بتایا گیا کہ دھماکے ٹرمینل کے اندر ہوئے ہیں جس کے بعد صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔

ہم شاہراہ فیصل سے ایئرپورٹ کی مرکزی سڑک پر داخل ہوئے تو معلوم ہوا کہ رینجرز نے راستہ بند کر دیا ہے اور کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اسی دوران ایک رینجرز اہلکار نے اندر جانے تو نہیں دیا لیکن یہ درخواست کی کہ کیا پینے کا پانی ہے۔

یوٹرن لے کر ہم نے سٹار گیٹ سے اندر جانے کی کوشش کی لیکن وہاں سے بھی اجازت نہیں ملی۔ اسی مقام پر ایک ایمبولینس کو باہر نکلتے دیکھا جس میں ایک زخمی تڑپتا ہوا نظر آرہا تھا۔ مریض کے منھ پر آکسیجن ماسک تھا اور نہ ہی اسے کوئی ابتدائی طبی امداد دی گئی تھی۔ اس کی قمیص خون سے سرخ ہوچکی تھی اور اس کی امید کا سہارا ایمبولینس ڈرائیور ہی تھا۔ معلوم نہیں وہ اس بروقت ہسپتال پہنچا بھی سکا یا نہیں۔

ایئرپورٹ کے قریب سے ہی ایک راستہ پہلوان گوٹھ کی جانب جاتا ہے۔ ہم نے اسی طرف سے آخری کوشش کی۔

راستے میں ہمیں کوئی چوکی یا موبائل نظر نہیں آئی۔ راستے کے بیچ میں ایک موٹر سائیکل کھڑی تھی اور ساتھ میں نوجوان موجود تھا جس نے سوال کیا: ’ہاں بھائی کہاں جا رہے ہیں؟‘ ہم نے بتایا کہ میڈیا سے تعلق ہے تو اس نے راستہ فراہم کر دیا۔

اتفاق سے اس سڑک پر بغیر کسی رکاوٹ کے ہم اسی جگہ جا پہنچے جہاں سے حملہ آور ٹرمینل میں داخل ہوئے تھے۔

سنگل سٹوری عمارت پیپلز یونٹی اور ایئرلیگ کے بینروں سے سجی ہوئی تھی اور داخلی راستے کے دائیں اور بائیں فرش پر خون موجود تھا۔ ایک طرف سابق صدر آصف علی زرداری تو دوسری جانب میاں نواز شریف کی تصاویر آویزاں تھیں۔ یہاں ہی ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے دو اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

سب انسپکٹر سطح کے ایک افسر نے بتایا: ’ہم ڈیوٹی پر تھے لیکن فائرنگ کی آواز پر سمجھے کہ شاید یونین کے انتخابات کے حوالے سے ان کا آپس میں تنازع ہوا ہے۔ جب یہاں پہنچے تو تخریب کاری کا اندازہ ہوا۔‘

فائرنگ اور ایمرجنسی کے الارم کے ملے جلے سروں کے دوران پی آئی اے کے ایک ملازم سے بھی ملاقات ہوئی جو حملے کے وقت اوپر عمارت میں ہی موجود تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ’حملہ آور ایک ہائی روف وین میں آئے تھے اور وین انھیں اتار کر چلی گئی۔‘

اسی بات کی تصدیق بعد میں ایک اور چشم دید گواہ نے بھی کی۔ اس نے اسی سڑک کی طرف اشارہ کیا جہاں سے ہم داخل ہوئے تھے، جبکہ فورسز نے سکیورٹی کے تمام انتظامات جناح ٹرمینل کی طرف کیے ہوئے تھے۔

کارگو گیٹ سے آرمی اور رینجرز کے جوان داخل ہوئے جس کے بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ایسا لگتا تھا کہ قریب سے ہی فائرنگ ہو رہی ہے۔ تھوڑی دیر بعد ایک سکیورٹی افسر نے آ کر بتایا کہ تین حملہ آور ہلاک ہوگئے ہیں جن میں ایک کی لاش قریب پڑی ہوئی ہے جبکہ دو تھوڑی دور ہیں۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کا ایک اہلکار اندر داخل ہوا اور ایک نے واپس آ کر ماتحت ملازمین کو بتایا کہ حملہ آور کی جیکٹ سلامت ہے اور اس کا ہاتھ پن پر ہے۔ اس کے بعد اس اہلکار کو امریکی مدد سے آنے والی بم ڈسپوزل کی جیکٹ پہنائی گئی اور وہ ٹرمینل کے اندر داخل ہوگیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ جیکٹ ہاتھ میں لیے اور ساتھ میں کچھ دستی بم اور گولے بھی لایا، جن کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ ’ایوان بم‘ ہیں جو اس سے پہلے لیاری میں بھی استعمال کیے گئے تھے۔

رات کو ڈھائی بجے کے قریب ایک بڑا دھماکہ سنا گیا جس سے گاڑیوں کے سینسر شور مچانے لگے جبکہ فائرنگ بھی تیز ہوگئی۔ تمام اہلکاروں اور صحافیوں نے پیچھے کی طرف دوڑ لگائی اور باہر سے بھاری فائرنگ شروع کر گئی۔ اس دوران ہمارے آس پاس بھی فائرنگ ہوتی رہی اور ہم نے محفوظ مقام میں پناہ لی۔

اس صورتحال میں یہ خدشہ تھا کہ کہیں فرینڈلی فائرنگ کا تبادلہ نہ ہو جائے کیونکہ ایک تو اندھیرا تھا اور دوسرا یہ بھی اطلاعات تھیں کہ ہوسکتا ہے حملہ آور سکیورٹی اہلکاروں کی وردیوں میں ہوں۔

پی آئی اے کے ایک ملازم نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو بتایا کہ چار کے قریب حملہ آور شمال کی جانب بھی موجود ہیں جو فائرنگ کر کے پیچھے کی طرف جا رہے ہیں۔ اس سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ حملہ آور دو ٹولیوں میں ہیں۔ ان میں سے ایک تو فوکر گیٹ سے داخل ہوئی دوسری کہاں سے آئی، کسی کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔

صبح پانچ بجے تک اندر سے ہلاک ہونے والے حملہ آوروں کی لاشیں باہر نہیں نکالی گئیں۔ صحافیوں کے ساتھ شہر میں سرگرم دو ایمولینس سروسز کے رضاکار موجود تھے۔ ان دونوں اداروں میں بھی میڈیا کے اداروں کی طرح پہلے پہنچنے کی جنگ جاری تھی لیکن اے ایس ایف اہلکار دونوں کو پیچھے ہٹ جانے کا کہتے رہے۔

فائرنگ قریب اور شدید ہونے کے بعد ہم نے ٹرمینل ون کی راہ اختیار کی جہاں نیوز چینلوں کی لائیو کوریج کی گاڑیاں، پولیس، رینجرز اور دیگر اداروں کی لاتعداد گاڑیاں کھڑی تھیں۔ ٹرمینل کے اندر وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ پہنچ چکے تھے۔ باہر آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ایک ٹی وی چینل کے مالک کے ساتھ محو گفتگو تھے ان کے ساتھ موجود ملازم صاحب کی بلٹ پروف جیکٹ اور ٹشو پیپر کا ڈبہ ساتھ لے کر چلتا رہا۔

قانون نافذ کرنے والے ذرائع سے حملہ آوروں سے برآمد ہونے والے اسلحے کے بارے میں متنازع خبریں چینلوں پر دوڑتی نظر آئیں۔ جب وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ لاؤنج سے باہر آئے تو ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا بھارتی ساخت کا اسلحہ برآمد ہوا ہے؟ اس سے پہلے کہ وہ اس کا جواب دیتے، صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے اپنے طور پر اس کی تصدیق کر دی۔

کراچی ایئرپورٹ رات کو بین الاقوامی پروازوں کی آمد اور روانگی کی وجہ سے مصروف رہتا ہے۔ یہ بات حملہ آور بھی جانتے تھے۔

ایک اہلکار کے مطابق حملہ آور جناح ٹرمینل کی طرف جانا چاہتے تھے لیکن انھیں وہاں تک پہنچے نہیں دیا گیا۔ اہلکار نے بتایا کہ کچھ حملہ آوروں سے بھنے ہوئے چنے اور پانی بھی برآمد ہوا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے وہ اسلحے اور راشن ختم ہونے تک مقابلہ کرنے کا سوچ کر آئے تھے۔

کراچی میں تین سال قبل مہران ایئر بیس پر حملہ کیا گیا تھا لیکن اس کا رقبہ اور عملے کی موجودگی کراچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مقابلے میں کئی گنا کم تھی۔ اس آپریشن کو بھی 16 سے 18 گھنٹے لگے، لیکن یہ آپریشن چھ گھنٹے میں اختتام پذیر ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کراچی ایئرپورٹ رات کو بین الاقوامی پروازوں کی آمد اور روانگی کی وجہ سے مصروف رہتا ہے۔ یہ بات حملہ آور بھی جانتے تھے

اسی بارے میں