محفوظ جگہ موت کا سبب بن گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی ایئرپورٹ پر شدت پسندوں کے حملے سے 36 افراد ہلاک ہو گئے تھے

کراچی ایئرپورٹ کے کارگو ٹرمینل میں جھلس کے ہلاک ہونے والے ساتوں ملازمین نے ایک گودام کو محفوظ جگہ سمجھ کر پناہ حاصل کی تھی لیکن بعد میں یہی فیصلہ ان کی زندگی لے بیٹھا۔

اتوار کی شب ہوائی اڈے پر حملے کے دوران حملہ آوروں نے کارگو ٹرمینل پر راکٹوں سے حملہ کیا تھا جس کی وجہ سے وہاں آگ لگ گئی۔اس شدید آگ پر پیر کی دوپہر قابو پایاگیا۔

میڈیا پر اس مقام کو کولڈ سٹوریج کہا گیا ہے تاہم سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ کولڈ سٹوریج نہیں بلکہ اس سے ملحق گودام تھا۔

24 گھنٹوں کے بعد لواحقین کے احتجاج پر دوبارہ تلاش کی گئی اور صبح چار بجے کے قریب ملبے سے ساتوں لاشوں کو برآمد کیا گیا جن میں سے کچھ ناقابل شناخت ہیں۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد کے مطابق ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا جس میں چند روز لگ سکتے ہیں۔

پیر کی دوپہر جب لاپتہ سیف اللہ کی والدہ اور کزن سر خان سے بات ہوئی تھی تو وہ اس وقت سیف اللہ کی تلاش میں تھے اور 24 گھنٹوں کے بعد سر خان سے رابطہ ہوا تو وہ اپنے کزن کی تدفین کر کے قبرستان سے نکل رہے تھے۔ وہ صرف اتنی بات کر سکے کہ لاش بری طرح جھلس چکی تھی۔

اس سے پہلے پیر کو سیف اللہ کی والدہ شاہین نے بتایا تھا کہ ان کا بیٹے سے حملے والی رات رابطہ ہوا تھا اور اس نے کہا تھا کہ اب وہ ٹیلیفون نہیں کریں گے کیونکہ فون کی روشنی پر حملہ آور آ سکتے ہیں۔

ہلاک ہونے والے عنایت شاہد کا بھی اپنے چچا شاہد خان سے اسی وقت یعنی ساڑھے 11 بجے رابطہ ہوا اور اس نے انھیں بتایا کہ ان کے آفس پر حملہ ہوگیا ہے، گولیاں اور راکٹ چل رہے ہیں اور وہ آفس کے عقب میں واقع کولڈ سٹوریج میں موجود ہیں۔ جس کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایئرپورٹ پر حملے کے بعد وہاں بڑے پیمانے پر افراتفری مچ گئی اور لوگ اپنے عزیزوں کو ڈھونڈتے رہے

شاہد خان بتاتے ہیں کہ پیر کی صبح وہ ٹرمینل ون گئے اور عنایت کے بارے میں معلوم کیا تو انھیں بتایا گیا کہ کچھ ملازمین کو ایجنسیاں لے گئی ہیں۔ ایک شخص نے تصدیق کی کہ اس نے عنایت کو اندر دیکھا تھا۔

32 سالہ عنایت شاہد گذشتہ آٹھ سالوں سے کارگو کمپنی کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ شاہد خان نے بتایا کہ لاش بری طرح سے جھلس چکی تھی۔ انھوں نے اس کے لمبے قد اور تصویر سے شناخت کی۔ بقول ان کے کمپنی کا شناختی کارڈ پورا جل گیا تھا لیکن جہاں تصویر لگی ہوئی تھی وہ حصہ سینے سے چپکا ہوا تھا جس سے شناخت میں آسانی ہوئی۔

ہمایوں خان کا اپنے بھائی نصیر خان سے رات کو چار بجے آخری رابطہ ہوا۔ اس نے انھیں بتایا کہ آس پاس فائرنگ ہو رہی ہے اور ہر طرف خطرہ ہے لیکن وہ محفوظ جگہ پہنچ چکے ہیں اور اب کوئی مسئلہ نہیں۔ اس کے بعد رابطہ منقطع ہوگیا۔

ہمایوں خان کے مطابق پہلے نصیر کا ٹیلی فون مصروف تھا اور اس کے بعد بند ہوگیا، لیکن اس کے باوجود بھی وہ اس امید پر مسلسل رابطے کی کوشش کرتے رہے کہ شاید فون آن ہو جائے۔

42 سالہ نصیر خان گذشتہ پانچ سالوں سے کارگو کمپنی میں ملازم تھے۔ ان کے سات بچے ہیں۔ ہمایوں خان کے مطابق نصیر کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی ہے، جبکہ لاش سلامت ہے۔ صرف ان کے پیر جھلس گئے تھے۔

اسی بارے میں