پاکستان کے میدانی علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دوپہر کا زیادہ وقت لوگ گھروں، دفاتر یا دکانوں کے اندرگزارنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن بجلی کی طویل بندش لوگوں کو گھروں میں بھی چین نہیں لینے دیتی

پاکستان کے میدانی علاقے گرمی کی لپیٹ میں ہیں جس سے لوگوں کے معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ کئی کئی گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ نے عام شہریوں کی تکالیف میں اضافہ کیا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ لو لگنے سے ہسپتالوں تک پہنچے ہیں۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹےکے دوران پاکستان کا گرم ترین علاقہ تربت رہا جہاں درجۂ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جبکہ جنوبی پنجاب کا شہر بھکر 49 سینٹی گریڈ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔

گوادر، جیکب آباد، سبی، لاہور، ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان سمیت سندھ پنجاب اوربلوچستان گرمی کی لپیٹ میں رہے۔

محکمۂ موسمیات کا کہناہے کہ گرمی کی حالیہ لہر آئندہ پانچ روز تک برقرار رہے گی اور اس دوران بعض علاقوں میں درجۂ حرارت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

پاکستان میں سال کے یہ دن طویل ترین شمار ہوتے ہیں اور ان دنوں میں گرمی کی شدت سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ سورج سوا نیزے پر آ چکا ہے۔

دوپہر کا زیادہ وقت لوگ گھروں، دفاتر یا دکانوں کے اندرگزارنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن بجلی کی طویل بندش لوگوں کو گھروں میں بھی چین نہیں لینے دیتی۔

گرمی میں اضافے کے ساتھ ہی بجلی کی طلب میں اضافہ ہوگیا ہے جس نے بجلی کے شارٹ فال کو مزید بڑھا دیا ہے۔

شہری اور دیہی علاقوں میں 12 سے 16 گھنٹے تک کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔

گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف چھوٹے بڑے مظاہرے گذشتہ ایک ہفتے سے جاری ہیں۔

محکمۂ موسمیات کاکہنا ہےکہ اگلے ہفتے گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور کشمیر کے دریاؤں میں برف پگھلنے کی وجہ سے بہاؤ میں اضافہ ہوگا اور تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے جس سے بجلی کی پیدوار بڑھائی جاسکتی ہے۔

پاکستان میں شدید گرمی میں شہریوں کو روزگار کے لیے گھروں سےنکلنا پڑتا ہے۔

کڑی دھوپ میں سیمنٹ کی بوریاں ڈھونے والے محنت کش محمد اکرم کی موٹرسائیکل پک اپ کو میں نے سڑک کنارے روکا اور پوچھا کہ اتنی گرمی میں وہ کیا کر رہے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ اگر وہ کمائیں گے نہیں تو گھر میں فاقے ہوں گے۔

انھوں نے بتایا کہ ’وہ آٹھ ہزار روپے ماہوار کے ملازم ہیں اور اگر چھٹی کرتے ہیں تو تنخواہ کٹ جاتی ہے۔‘

محمد اکرم نے کہا ’گرمی سے بیمار پڑ کر انھوں نے چھٹی کی تھی لیکن سیمنٹ فروش مالک دکان نے انھیں زبردستی بلا لیا۔‘

اسی بارے میں