’ نواب خیر بخش مری ایک مشکل آدمی تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption احمد رشید کے خیال میں ماضی کی لڑائیاں حقوق یا نیم خودمختاری کے لیے ہوئیں لیکن اب آزادی کی لڑائی ہو رہی ہے

پاکستان اور خطے میں شدت پسندی کے متعلق متعدد کتابوں کے مصنف احمد رشید کے خیال میں خیر بخش مری ’بہت مشکل آدمی‘ تھے۔

احمد رشید 70 کی دہائی میں بلوچستان کی تحریک میں فعال رہے، اور اس دوران ان کی نواب خیر بخش مری کے ساتھ ملاقاتیں رہیں۔ اُن کے خیال میں بلوچستان کی نئی نسل کو نواب خیر بخش مری کی کم گوئی کا گلہ رہا:

’ایک طرف تو بہت بڑے آدمی تھے۔ سردار بھی تھے۔ دوسری طرف بہت مشکل آدمی تھے۔‘

نواب خیر بخش مری کے بارے میں عمومی رائے ہے کہ وہ کم گو شخصیت کے مالک تھے۔ احمد رشید کہتے ہیں کہ ’اگر سیاست میں آدمی اپنی رائے، صلاح اور فیصلوں کو کسی کے ساتھ شیئر نہ کرے تو بہت مشکل ہوتا ہے۔‘

’میرے خیال میں خیر بخش کے ساتھ جو سب سے بڑا مسئلہ ہوا، بلوچ رہنماؤں کے ساتھ تعلقات میں یا جو طلبہ کی نئی نسل، اُن کا سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا کہ خیر بخش اتنے چپ کیوں رہتے ہیں۔ بات کیوں نہیں کرتے۔ اگر سیاسی بات نہیں کرنا چاہ رہے تو انسانی حقوق کی، یا کوئی تو بات کریں۔ وہ نہیں کرتے تھے۔‘

احمد رشید سمجھتے ہیں کہ نواب خیر بخش مری شروع میں تو بائیں بازو کے تھے، مارکسی تھے، بلوچ حق کے لیے لڑنے کے لیے، بات چیت اور سیاست کے لیے بھی تیار تھے لیکن آخری سالوں میں ’بیزار ہو کر اُن کی سوچ خود مختاری کی طرف زیادہ مائل ہو گئی کیونکہ ان کی زندگی بہت سخت رہی۔ بلوچستان میں عام سرداروں کی زندگی اتنی سخت نہیں ہوتی، وہ بڑی خوشگوار زندگی گزارتے ہیں۔‘

نواب خیر بخش مری کی کم گوئی مگر سخت مزاجی کے باوجود احمد رشید یاد کرتے ہیں کہ ’جو بھی ان سے ملتا تھا اسے بغیر کہے ہی پتہ چل جاتا تھا کہ اُن کی کیا سوچ ہے۔

’بہت مشکل تھا اُن سے کوئی سیاسی یا فیصلہ کن بات نکالنا۔ بہت کم لوگوں کے ساتھ وہ اپنی سوچ اور خیال شیئر کرتے تھے۔‘

نواب خیر بخش مری کا انتقال ایسے وقت میں ہوا ہے جب بلوچستان میں مسلح بغاوت کی موجودہ لہر کو دس سال گزر چکے ہیں۔

احمد رشید کے خیال میں ماضی کی لڑائیاں حقوق یا نیم خودمختاری کے لیے ہوئیں لیکن اب آزادی کی لڑائی ہو رہی ہے۔ وہ موجودہ حکمرانوں اور بلوچوں کی نئی قیادت میں مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی خواہش کا فقدان دیکھتے ہیں۔

’افسوس کی بات یہ ہے کہ جو (بلوچ لیڈر) فرار بیٹھے ہیں، اُن میں کوئی ایسا لیڈر نہیں جو بات چیت کے لیے تیار ہو۔ اسلام آباد میں بھی لگتا ہے کہ کوئی بات چیت کے لیے تیار نہیں۔‘

احمد رشید نواب خیر بخش مری کے انتقال کے موقعے پر حالات کو بلوچستان اور پاکستان کے لیے مشکل وقت قرار دیتے ہیں۔ لیکن اُن کے خیال میں اِس مشکل وقت سے نکلنے کے لیے پہل ریاست کو کرنا پڑے گی۔

’میں تو یقین کرتا ہوں کہ اگر اسلام آباد میں کوئی عقل ہو، سیاسی پارٹیاں، حکومت، فوج، کوئی بات چیت کرنے کے لیے تیار ہو۔ تو میرے خیال میں پھر بھی بلوچستان میں لوگ ملیں گے جو کچھ بات چیت کے لیے تیار ہوں۔‘

اسی بارے میں