نواب خیر بخش مری کوئٹہ میں سپردِ خاک

Image caption نواب خیر بخش مری کے تین بیٹے گزین مری، حربیار مری اور مہران مری بیرون ملک رہتے ہیں جبکہ ایک بیٹا چنگیز مری مسلم لیگ ن بلوچستان کے سرگرم رہنما ہیں

بلوچ قوم پرستوں کے ممتاز رہنما نواب خیر بخش مری کو ان کے پیرو کاروں اور بیرون ملک مقیم بیٹوں کی خواہش کے مطابق کوئٹہ سپردِ خاک کیا گیا ہے۔

نواب مری کی میت ان کے صاحبزادے جنگیز مری کے مطابق سی 130 طیارے کے ذریعے کوئٹہ لائی گئی۔

واضح رہے کہ نواب مری کے دو فرزند تدفین کوئٹہ میں اور تدفین سے قبل موت کے اسباب کا تعین عالمی ماہرین سے کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

’ نواب خیر بخش مری ایک مشکل آدمی تھے‘

بزرگ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری طویل علالت کے بعد منگل اور بدھ کی درمیانی شب کراچی کے ایک نجی ہپستال میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی عمر 88 سال تھی۔

بیرون ملک رہنے والے نواب مری کے دو فرزندوں نوابزادہ حیربیار مری اور نوابزادہ عمران مری عرف مہران بلوچ یہ چاہتے تھے کہ تدفین کوئٹہ میں ہزار گنجی کے علاقے نیو کاہان میں شہدا کے قبرستان میں ہو۔

ان کے علاوہ بلوچ نیشنل وائس کے ترجمان مقبول بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ نواب خیربخش مری نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ان کی تدفین ان کے فکری ساتھیوں کے درمیان ہو۔

بلوچ نیشنل وائس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ نواب مری کی موت یاسرعرفات کی طرح طبعی نہیں اس لیے ان کی موت کی وجوہات کی تحقیقات اقوام متحدہ یا کسی اور بین الاقوامی فورم کے ذریعے کی جائیں۔

بی این وی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ نواب خیر بخش مری کی ضمانت طبی بنیادوں پر ہوئی تھی لیکن ریاستی حکمرانوں نے انھیں علاج معالجے کی سہولت کبھی فراہم نہیں کی۔ دوسری جانب بلوچ ری پبلکن پارٹی کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے نواب مری کی وفات کو بلوچ قوم کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے ان کی موت پر 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے نواب مری کے انتقال کو بلوچ قوم کے لیے سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے سوگواروں میں صرف فرزند نہیں بلکہ ایک قوم چھوڑی ہے۔

اسی بارے میں