مل کر مسائل حل کریں: نواز شریف کا مودی کو خط

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 26 مئی کو بھارت کے وزارت عظمیٰ کی حلف برداری کی تقریب میں نریندر مودی کی دعوت پر نواز شریف دہلی گئے تھے

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے نام خط لکھا ہے جس میں دونوں ملکوں کے درمیان متنازع امور کو مل کر حل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم کے دفتر سے بدھ کی صبح صحافیوں کو بھیجے گئے اس خط کی نقل کے مطابق نواز شریف نے نریندر مودی سے کہا ہے کہ ’دونوں ملکوں میں غربت میں زندگی بسر کرنے والے کروڑوں افراد ہم دونوں کی فوری توجہ کے منتظر ہیں۔‘

پاکستانی وزیراعظم کے مطابق ’ان (غریب) افراد کا مستقبل ہماری مشترکہ معاشی منزل سے وابستہ ہے اور میرا یقین ہے کہ ہماری مشترکہ کوششوں سے دونوں ملکوں میں خوشحالی اور بہتری آ سکتی ہے۔‘

نواز شریف نے گذشتہ ماہ دہلی میں نریندر مودی کی وزارت عظمیٰ کی حلف برداری میں شرکت کی دعوت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دورے سے بہت مطمئن لوٹے ہیں۔

انھوں نے لکھا: ’اس موقعے پر آپ کے ساتھ باہمی اور علاقائی دلچسپی کے امور پر بامعنی تبادلہ خیال سے میں بہت مطمئن لوٹا ہوں۔‘

نواز شریف نے اس دورے کے دوران نریندر مودی کی جانب سے جنوبی ایشیائی رواج کے مطابق میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

دہلی سے ہمارے نامہ نگار سہیل حلیم کا کہنا ہے کہ اس خط سے اس تاثر کو زائل کیا جا سکے گا جس میں بعض پی ایم ایل رہنماؤں کے حوالے سے یہ بات کہی گئی تھی کہ نواز شریف بھارتی دورے میں ان سے روا رکھے گئے سلوک سے خوش نہیں تھے۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کی والدہ کے لیے ایک ساڑھی بھیجی تھی، جب کہ وزیراعظم نواز شریف کی والدہ کے لیے تحفے میں ایک شال دی تھی۔

مودی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ’نواز شریف جی نے میری والدہ کے لیے ایک بہت اچھی سفید ساڑھی بھیجی ہے۔ میں ان کا تہہِ دل سے ممنون ہوں۔‘

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب کو یہ مراسلہ ایسے وقت میں لکھا ہے جب دائیں بازو کی جماعتیں پہلے ہی ان کے حالیہ بھارتی دورے پر انھیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اس خط کے بارے میں بھی دائیں بازو کی اہم سیاسی جماعت، جماعت اسلامی نے تنقیدی بیان جاری کیا ہے۔

جماعت کے ترجمان امیر العظیم نے بی بی سی کو بتایا کہ نواز شریف بہت جلدی میں بھارتی وزیراعظم کے ساتھ دوستی کرنا چاہ رہے ہیں لیکن ان کی اس پالیسی کی کوئی سمت نہیں ہے۔

ان کے بقول ’بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا درست طریقہ جامع مذاکرات کی بحالی ہی ہے۔ اس کے علاوہ نواز شریف جو بھی کرنا چاہتے ہیں وہ عوامی خواہشات کے منافی ہے۔‘

اسی بارے میں