یونس خان کے لیے قواعد میں تبدیلی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یونس خان تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی قیادت بھی کر چکے ہیں اور ان کی قیادت میں پاکستان نے 2009 میں آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتا تھا

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے سینٹرل کنٹریکٹ کے قواعد وضوابط میں ترمیم کرتے ہوئے سابق کپتان یونس خان کو اے کیٹیگری میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے کرکٹروں کی کیٹیگری کا تعین کرنے والی تین رکنی کمیٹی نے پانچ جون کو سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کرتے وقت یونس خان کو بی کیٹیگری دی تھی۔

اس کمیٹی میں ذاکر خان، محمد اکرم اور معین خان شامل تھے۔

یونس خان کو بی کیٹیگری دیے جانے پر اس کمیٹی کو مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن کمیٹی کے ارکان نے یونس خان کو بی کیٹیگری دیے جانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے واضع کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق قرار دیا تھا۔

تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین نجم سیٹھی نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے یونس خان کو اے کیٹیگری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یونس خان اے کیٹیگری دیے جانے کے لیے موزوں امیدوار ہیں۔

بی بی سی کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب سینٹرل کنٹریکٹ کی کمیٹی نے تمام ناموں کو حتمی شکل دی تو اس وقت بھی نجم سیٹھی یونس خان کو بی کیٹیگری دیے جانے پر کمیٹی سے متفق نہیں تھے۔

قواعد کے مطابق سینٹرل کنٹریکٹ میں کسی بھی کرکٹر کی اے کیٹیگری میں شمولیت کی یہ شرط رکھی گئی تھی کہ وہ تینوں طرز کے میچ کھیل رہا ہو یا کسی بھی فارمیٹ میں پاکستانی ٹیم کا کپتان ہو۔

اس کے علاوہ کم ازکم دو فارمیٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے اور کم ازکم 50 ٹیسٹ میچوں یا پھر کم ازکم دو سو ون ڈے انٹرنیشنل ضرور کھیلے ہوں۔

یونس خان نے پاکستان کی طرف سے اب تک 89 ٹیسٹ اور 253 ون ڈے انٹرنیشنل اور 25 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے ہیں لیکن اس وقت وہ صرف ایک فارمیٹ یعنی ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

وہ ماضی میں تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی قیادت بھی کر چکے ہیں اور ان کی قیادت میں پاکستان نے 2009 میں آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتا تھا۔

اسی بارے میں