دیر میں پولیس چوکی پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دو روز قبل بھی ضلع ٹانک میں طالبان مخالف امن کمیٹی کے رضاکاروں اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں دو حملہ آوار مارے گئے

ضلع لوئر دیر کے علاقے گل آباد میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر نامعلوم افراد نے دستی بم سے حملہ کر کے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کردیا ہے۔

تھانہ چکدرہ کے محرر سبز علی نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم دہشت گردوں نے جمعرات کی رات تھانہ چکدرہ کی حدود میں واقعہ گل آباد پولیس چیک پوسٹ پر دستی بم سے حملہ کر کے ایک پولیس اہلکار ایوب خان کو ہلاک کر دیا اور دہشت گرد حملے کے بعد فرار ہوگئے ہیں۔

ان کے مطابق پولیس نے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاہم آخری اطلاعات تک کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

خیال رہے کہ گذشتہ رات بھی ملاکنڈ کے علاقے سخاکوٹ میں بھی لیویز کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا تھا جس میں دو لیویز اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ ضلع مالاکنڈ کے تھانہ درگئی کے محرر جاوید نے صحافی انور شاہ کو بتایا کہ یہ واقعہ ضلع مالاکنڈ کے علاقے سخاکوٹ میں غاورگاؤں میں پیش آیا۔

اس کے علاوہ دو دن قبل سوات میں امن کمیٹی کے دو اراکین سمیت ایک پولیس اہلکار کو بانڈی کے علاقے میں فائرنگ کر کے ہلاک کردیا گیا تھا۔ پے درپے ہونے والی دہشت گرد کاروائیوں کے بعد علاقے میں خوف کی فضا ہے اور لوگ تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ دو روز قبل بھی ضلع ٹانک میں طالبان مخالف امن کمیٹی کے رضاکاروں اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں دو حملہ آوار مارے گئے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات ٹانک کے دور افتادہ علاقے کوٹ اعظم میں تھانہ گومل کے حدود میں پیش آیا۔

تھانہ گومل کے ایک اہلکار مہتاب خان نے پشاور میں نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ مسلح شدت پسندوں نے طالبان مخالف امن کمیٹی کے رکن عطاؤ اللہ کے مکان پر رات کی تاریکی میں اچانک خود کار ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔

گذشتہ سال ستمبر میں ضلع اپر دیر میں ہونے والے دھماکے میں پاکستانی فوج کے ایک میجر جنرل سمیت دو افسران اور ایک اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ذشتہ رات بھی ملاکنڈ کے علاقے سخاکوٹ میں بھی لیویز کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا تھا جس میں دو لیویز اہلکار ہلاک ہوگئے تھے

واضح رہے کہ خیبر پختوا کے ضلع ٹانک اور مالاکنڈ ڈویژن شدت پسند کارروائیوں کی زد میں رہے ہیں۔ مالاکنڈ کے علاقے میں پہلے بھی لیویز اہلکاروں پر متعدد حملے ہو ئے ہیں جن میں کئی اہلکار ہلاک و زخمی چکے ہیں۔

گذشتہ سال مئی میں مالاکنڈ کے ایک قصبے بازدرہ میں نمازِ جمعہ کے وقت دو مساجد میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں 13 افراد ہلاک اور 45 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

سنہ 2006 میں درگئی میں فوج کے ایک تربیتی مرکز پر خودکش حملے میں 42 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ ضلع مالاکنڈ، مالاکنڈ ڈویژن کا حصہ ہے جس کے دیگر اضلاع میں لوئر دیر، اپر دیر، سوات، شانگلہ، بونیر اور چترال شامل ہیں۔ گذشتہ کئی سالوں سے مالاکنڈ ڈویژن کے اکثر اضلاع شدت پسند کارروائیوں کی زد میں رہے ہیں۔

مالاکنڈ ضلع سے متصل ضلع سوات میں بھی گذشتہ سال جنوری میں ایک تبلیغی مرکز میں دھماکے کے نتیجے میں 22 افراد ہلاک اور 55 زخمی ہوئے تھے۔

اسی طرح ضلع ٹانک میں پہلے بھی طالبان مخالف افراد پر شدت پسندوں کی طرف سے حملے ہوتے رہے ہیں۔ اس ضلع کی سرحدیں قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے ملی ہوئی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ٹانک کا شمار خیبر پختون خوا کے حساس اضلاع میں ہوتا ہے۔ یہاں حکومت کی طرف سے بعض علاقوں کو ’نو گو ایریا ’ بھی قرار دیا جاچکا ہے۔

اسی بارے میں